امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا
Web Desk
6 September 2026
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی سول جوہری معاہدے کا باضابطہ متن سامنے آ گیا ہے، جس میں جوہری پروگرام کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی شرط کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کو بھیجی گئی سرکاری دستاویزات میں ابراہیمی معاہدوں یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے متعلق کسی پابندی کا ذکر موجود نہیں، جبکہ ریاض کے لیے 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سخت ترین اضافی پروٹوکول میں شامل ہونے کا پابند بھی نہیں بنایا گیا ہے۔
معاہدے کی شق 7 کے مطابق امریکہ کی تحریری رضامندی کے بعد منتقل یا تیار کردہ یورینیم کو مزید افزودہ کیا جا سکے گا اور دونوں ممالک مل کر افزودگی کے مواقع کا جائزہ لیں گے۔ شق کی دفعہ 5 کی رو سے اگر امریکی ٹیکنالوجی اور آلات استعمال کیے جائیں تو یورینیم افزودگی کی حد 5 فیصد تک رہے گی۔ معاہدہ سعودی عرب کو بنیادی معائنے قبول کرنے کا پابند بناتا ہے، تاہم اضافی پروٹوکول اختیاری رہے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سابقہ جوہری معاہدے سے تقابل کیا جائے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو اس معاہدے میں انتہائی اہم اور غیر معمولی رعایتیں دی گئی ہیں۔
متعلقہ عنوانات
انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث 8 ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل
6 September 2026
امریکی پابندیاں، بحری ناکہ بندی: ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھ گیا
6 September 2026
آبنائے ہرمز کا مشن: ایران کا امریکا کا ساتھ دینے پر جنوبی کوریا کے مفادات کو نشانہ بنانے کا خدشہ
6 September 2026
یمن میں حکومتی فوج اور حوثی باغیوں میں مزید جھڑپیں، ہلاکتیں 140 ہوگئیں
6 September 2026
7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن
6 September 2026
ایران کا آبنائے ہرمز سے پابندیاں عائد کرنے والوں کی آمدورفت روکنے کا منصوبہ منظور
6 September 2026
ایران کا اربیل کے قریب امریکی نگرانی کرنے والا غبارہ مار گرانے کا دعویٰ
6 September 2026
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے غیر مجاز آبادکار چوکیاں ختم کرنے کا حکم
6 September 2026