LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

Web Desk

7 September 2026

وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ رسمی نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر آج رات 12 بجے سے ہوگا، جو فی الحال ایک دن کے لیے یعنی 8 ستمبر تک نافذ العمل رہے گا۔ واضح رہے کہ وزارتِ پٹرولیم کی نئی پالیسی کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملک بھر میں گڈز و پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی پیداوار اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اضافی دباؤ اور مہنگائی کی نئی لہر آنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔