LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
9 مئی کیسز: علیمہ خان اور عظمیٰ خانم کی عبوری ضمانت میں توسیع پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان نائجیریا میں فوجی طیارہ دریا کے قریب گر کر تباہ، تمام 32 افراد جاں بحق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے امریکی رہنما رچرڈ گرنیل کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ: “انہیں فوری رہا کیا جائے ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو ریفائنری پر حملوں کا حوثی دعویٰ، سعودی اتحاد کی بحیرہ احمر پر جوابی کارروائی امریکا میں پاکستانی نژاد تحرک کی حمایت: پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکا کی غیر ملکی مالیاتی اداروں کو ایران سے لین دین پر پابندیوں کی دھمکی امریکا کی اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کے فروخت کی منظوری نیویارک میں خسرے کی وبا کے باعث ایمرجنسی نافذ پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کر رہی، ریاست یرغمال بنانے نہیں دیں گے: اختیار ولی سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی لانگ مارچ، دھرنے: پشاور میں تاجر برادری کا خیبر پختونخوا حکومت کیخلاف احتجاج روس کے کیف میں فضائی حملے، 6 افراد ہلاک، 59 زخمی

عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

Web Desk

7 September 2026

وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ رسمی نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر آج رات 12 بجے سے ہوگا، جو فی الحال ایک دن کے لیے یعنی 8 ستمبر تک نافذ العمل رہے گا۔ واضح رہے کہ وزارتِ پٹرولیم کی نئی پالیسی کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملک بھر میں گڈز و پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی پیداوار اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اضافی دباؤ اور مہنگائی کی نئی لہر آنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔