LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات میں کئی دہائیوں کے دوران ہوشربا اضافہ عالیہ نیلم کا بڑا اعزاز، 23 خالی ججز کی آسامیاں پُر کرنے والی پہلی چیف جسٹس بن گئیں محسن نقوی ایران روانہ، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اہم بات چیت متوقع ملکی ترقی اور خوشحالی پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہو رہی: عطا تارڑ آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 15 اور ایل اے 16 کے 23 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ یوکرین کا مگ-29 لڑاکا طیارہ گر کرتباہ عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ امریکا ایران کشیدگی کے حل کے لیے دنیا کی نظریں پاکستان، قطر اور عمان پر مرکوز شامی عدالت نے معزول صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنادی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بحرین کا خیرمقدم کسٹمز بانڈڈ وئیر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی گنجائش نہیں: وزیراعظم موجودہ الیکشن میں لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں: حافظ نعیم الرحمٰن میٹرو بس سروس بندش کا خطرہ ٹل گیا، ویڈا اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں اتفاق وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کی ملاقات آئی ایم ایف پروگرام: پانچویں قسط کے حصول کے لئے تیاریاں شروع

ترکیہ: کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے لیے سزا میں نرمی کا قانون منظور

Web Desk

11 August 2026

ترکی کی پارلیمنٹ نے انقرہ حکومت اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے درمیان جاری امن عمل کے تحت متعدد سابق جنگجوؤں کے لیے جزوی معافی اور قید کی سزائیں معطل کرنے کا قانون منظور کر لیا ہے۔ ٹی آر ٹی کے مطابق اس فریم ورک لا کے حق میں 468 جبکہ مخالفت میں 88 ووٹ آئے، جس کی مرکزی مخالفت قوم پرست اپوزیشن جماعت ‘گڈ پارٹی’ نے کی۔ اس قانون کے تحت سنگین جرائم کے علاوہ دیگر تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں معطل کر دی جائیں گی، تاہم قتل اور 2005 سے قبل کے عمر قید والے جرائم اس معافی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس استثناء کے باعث جیل میں قید پی کے کے رہنما عبداللہ اوجلان اور شمالی عراق میں موجود تنظیم کے بانی ارکان اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

واضح رہے کہ پی کے کے نے ترکی کے خلاف 1984 سے مسلح شورش شروع کر رکھی تھی اور چار دہائیوں سے جاری اس تنازع کے بعد عبداللہ اوجلان کی اپیل پر تنظیم نے 2025 میں اپنی تحلیل اور ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔ ترکی کی کل آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ پر مشتمل کردوں کے حوالے سے بنائے گئے اس نئے قانون کو حکومت نواز میڈیا نے ہتھیار ڈالنے کی طرف بڑا قدم قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن میڈیا نے اسے دہشت گردی کو رعایتیں دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔