پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات میں کئی دہائیوں کے دوران ہوشربا اضافہ
Web Desk
11 August 2026
پاکستان کا معاشی سفر قیامِ پاکستان سے اب تک مسلسل مشکلات کا شکار رہا ہے، جہاں ایک طرف پاکستان اکنامک سروے کے مطابق تقریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، وہاں دوسری جانب اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اور بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت پہلی دستور ساز اسمبلی کے اراکین کو کوئی ماہانہ تنخواہ نہیں ملتی تھی بلکہ کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی ممبرز الاؤنس ایکٹ 1947 کے تحت صرف 21 روپے یومیہ ڈیلی الاؤنس دیا جاتا تھا، جو سفری الاؤنس ملا کر 45 روپے بنتا تھا۔ باقاعدہ ماہانہ تنخواہ کا سلسلہ 1956 میں 400 روپے سے شروع ہوا، جو صدر ایوب خان کے دور میں 1966 کے قانون کے تحت بڑھ کر 500 روپے ماہانہ ہو گیا۔
1973 کے آئین کے بعد سینیٹ کے قیام کے ساتھ ہی 1974 میں اراکین کی تنخواہ 1,500 روپے ماہانہ کر دی گئی۔ بعد ازاں 1985 میں مجموعی مراعات 4 ہزار روپے، 1988 میں 10,500 روپے، 1993 میں 14,000 روپے اور 1996 میں 13,766 روپے ماہانہ تک پہنچ گئیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اس میں تیزی سے اضافہ ہوا؛ 2003 میں بنیادی تنخواہ 15,000 روپے اور مجموعی مراعات 46,333 روپے ماہانہ مقرر ہوئیں۔ مختلف سالوں میں ایڈہاک الاؤنسز کے بعد 2012 میں مجموعی ماہانہ رقم 96,324 روپے، 2016 میں 1,08,997 روپے، اور 2018 میں بنیادی تنخواہ 1,50,000 روپے ہونے کے بعد مجموعی مراعات 2,13,000 روپے ماہانہ تک پہنچ گئیں۔
2025 میں ممبرز آف پارلیمنٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کے ذریعے اراکین کی بنیادی تنخواہ چار گنا بڑھا کر 6 لاکھ روپے ماہانہ کر دی گئی۔ موجودہ تمام الاؤنسز، بزنس کلاس ٹکٹس، سمچوری و آفس الاؤنسز، ہاؤسنگ اور ڈیلی الاؤنسز کو شامل کیا جائے تو ایک رکنِ پارلیمنٹ کو ماہانہ اوسطاً 9 لاکھ 88 ہزار 500 روپے (تقریباً 3,530 ڈالر سے زائد) ملتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو نیپال میں رکن اسمبلی کو تقریباً 600 ڈالر، سری لنکا میں 1,180 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1,400 ڈالر اور بھارت میں 2,913 ڈالر ماہانہ ملتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحران کے باوجود پاکستانی پارلیمنٹرینز خطے میں سب سے زیادہ مراعات حاصل کر رہے ہیں۔
قانون سازی کے معیار اور کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو بھاری مراعات کے باوجود عوام اراکین کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ جہاں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کی پارلیمانوں نے درجنوں قوانین منظور کیے، وہیں پاکستان میں کئی متنازع بل بھی جلد بازی میں منظور ہوئے جنہیں بعد میں روکنا یا ترمیم کرنا پڑا، جیسے کہ ‘ٹیلی کام اینڈ انفرااسٹرکچر بل’۔ معاشی بدحالی کے دور میں اراکین کی مراعات میں اس قدر اضافہ اور عوام کی ناقص نمائندگی، دونوں معاشی اور اخلاقی بنیادوں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ماسکو میں پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کی پروقار تقریب، روسی نائب وزیر خارجہ کی خصوصی شرکت
12 August 2026
امریکا اور ایران کا 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق
12 August 2026
مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن
12 August 2026
مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری
12 August 2026
پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق
12 August 2026
امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ
12 August 2026
اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق
12 August 2026
مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ
12 August 2026