LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایلون مسک کا مکیش امبانی پر شدید طنز: “پرائم منسٹر امبانی! معذرت کہ سمجھ نہ سکا آپ ہی بھارت کے اصل مالک ہیں اے آئی نے امریکا میں نقل کا بحران سنگین کر دیا، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹ چیٹ بوٹ سے لکھوانے لگے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو قتل کرنا سنگین غلطی تھی: سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسرائیل یورپی ممالک کا لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی کی حمایت کا اعلان نیپال میں سکول بس حادثے کا شکار، 4 طلبہ سمیت 5 افراد ہلاک، 14 زخمی امریکا کو کیوبا کیساتھ ایندھن اور دیگر اشیاء کی تجارت محدود کرنے کا حق نہیں: برونو روڈریگز میکسیکو کی جیل میں قیدیوں کے درمیان جھڑپ، بچے سمیت 10افراد ہلاک، 16 زخمی ٹرمپ نے ایران کے مسئلے کے حل میں روس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا، کریملن دہشت گردی کے خلاف ہر قربانی دینے کو تیار ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حوثیوں کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان ڈائیلاگ کے سوا کوئی حل نہیں، مذاکرات کیلئے آئیں، طاقت سے آپ کچھ نہیں منوا سکتے: ملک احمد خان مودی سرکار نے احتجاج روکنے کیلئے دہلی کو مقبوضہ علاقہ بنا دیا، جگہ جگہ فوج تعینات سہیل آفریدی کا مارچ ٹھس، بس تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں: امیر مقام مارچ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور تمام جائز مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا: شوکت یوسفزئی فرانس کی ایران کیلئے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت دوہرا معیار ہے: اسماعیل بقائی

پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات میں کئی دہائیوں کے دوران ہوشربا اضافہ

Web Desk

11 August 2026

پاکستان کا معاشی سفر قیامِ پاکستان سے اب تک مسلسل مشکلات کا شکار رہا ہے، جہاں ایک طرف پاکستان اکنامک سروے کے مطابق تقریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، وہاں دوسری جانب اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اور بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت پہلی دستور ساز اسمبلی کے اراکین کو کوئی ماہانہ تنخواہ نہیں ملتی تھی بلکہ کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی ممبرز الاؤنس ایکٹ 1947 کے تحت صرف 21 روپے یومیہ ڈیلی الاؤنس دیا جاتا تھا، جو سفری الاؤنس ملا کر 45 روپے بنتا تھا۔ باقاعدہ ماہانہ تنخواہ کا سلسلہ 1956 میں 400 روپے سے شروع ہوا، جو صدر ایوب خان کے دور میں 1966 کے قانون کے تحت بڑھ کر 500 روپے ماہانہ ہو گیا۔

1973 کے آئین کے بعد سینیٹ کے قیام کے ساتھ ہی 1974 میں اراکین کی تنخواہ 1,500 روپے ماہانہ کر دی گئی۔ بعد ازاں 1985 میں مجموعی مراعات 4 ہزار روپے، 1988 میں 10,500 روپے، 1993 میں 14,000 روپے اور 1996 میں 13,766 روپے ماہانہ تک پہنچ گئیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اس میں تیزی سے اضافہ ہوا؛ 2003 میں بنیادی تنخواہ 15,000 روپے اور مجموعی مراعات 46,333 روپے ماہانہ مقرر ہوئیں۔ مختلف سالوں میں ایڈہاک الاؤنسز کے بعد 2012 میں مجموعی ماہانہ رقم 96,324 روپے، 2016 میں 1,08,997 روپے، اور 2018 میں بنیادی تنخواہ 1,50,000 روپے ہونے کے بعد مجموعی مراعات 2,13,000 روپے ماہانہ تک پہنچ گئیں۔

2025 میں ممبرز آف پارلیمنٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کے ذریعے اراکین کی بنیادی تنخواہ چار گنا بڑھا کر 6 لاکھ روپے ماہانہ کر دی گئی۔ موجودہ تمام الاؤنسز، بزنس کلاس ٹکٹس، سمچوری و آفس الاؤنسز، ہاؤسنگ اور ڈیلی الاؤنسز کو شامل کیا جائے تو ایک رکنِ پارلیمنٹ کو ماہانہ اوسطاً 9 لاکھ 88 ہزار 500 روپے (تقریباً 3,530 ڈالر سے زائد) ملتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو نیپال میں رکن اسمبلی کو تقریباً 600 ڈالر، سری لنکا میں 1,180 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1,400 ڈالر اور بھارت میں 2,913 ڈالر ماہانہ ملتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحران کے باوجود پاکستانی پارلیمنٹرینز خطے میں سب سے زیادہ مراعات حاصل کر رہے ہیں۔

قانون سازی کے معیار اور کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو بھاری مراعات کے باوجود عوام اراکین کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ جہاں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کی پارلیمانوں نے درجنوں قوانین منظور کیے، وہیں پاکستان میں کئی متنازع بل بھی جلد بازی میں منظور ہوئے جنہیں بعد میں روکنا یا ترمیم کرنا پڑا، جیسے کہ ‘ٹیلی کام اینڈ انفرااسٹرکچر بل’۔ معاشی بدحالی کے دور میں اراکین کی مراعات میں اس قدر اضافہ اور عوام کی ناقص نمائندگی، دونوں معاشی اور اخلاقی بنیادوں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔