LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ نے اعتماد سازی کے لیے ایرانی جہاز توسکا کا عملہ حوالے کر دیا: پاکستان صدرِ مملکت نے پی آئی اے کارپوریشن آرڈیننس 2026 کی منظوری دیدی پی آئی اے کا مسافروں کے لیے بڑا ریلیف؛ ریاض اور دمام کے ٹکٹس پر 40 فیصد رعایت کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا “ون کانسٹی ٹیوشن” پر دو ٹوک موقف؛ اسے ملکی تاریخ کا بڑا سکینڈل قرار دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست، چیئرمین پی ٹی آئی کو نوٹس جاری اوپیک کا تیل پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل پیداوار ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بات چیت سے مسائل حل کرنے پر زور ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبران کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی جنگ کے اثرات کے باعث ایران میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر چھوٹی کشتیوں نے حملہ کیا ہے، یو کے ایم ٹی او کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی امریکی صدر کا آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بحال کرنے کا اعلان امریکا کا جواب پاکستان کے ذریعے ایران کو مل گیا، جائزہ لے رہے ہیں: اسماعیل بقائی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں، اسٹیو ویٹکوف  پشاور زلمی پی ایس ایل 11 کی چیمپئن بن گئی، حیدرآباد کنگزمین کو 5 وکٹوں سے شکست

صدر ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ ہیں ، جلد ردعمل متوقع: وائٹ ہاؤس

Web Desk

7 April 2026

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل سے مکمل طور پر باخبر ہیں اور اس پر جلد ردعمل دیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے کی گئی درخواست کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے واضح مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سینئر ایرانی عہدیداروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پر مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر سے ایران سے متعلق ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی اپیل کی تھی۔ اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور جلد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے، جبکہ ایران سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھلا رکھے۔