LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر

خیبر پختونخوا: دریا میں نہاتے ہوئے طالب علم سمیت 3 افراد ڈوب گئے

Web Desk

30 June 2026

دریائے سندھ اور دریائے کابل میں نہانے کے دوران پیش آنے والے مختلف افسوسناک واقعات میں ایک 12 سالہ طالب علم سمیت تین افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے دریاؤں میں نہانے پر سخت پابندی اور دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود شہری قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دریاؤں کا رخ کر رہے ہیں، جو ان جان لیوا حادثات کا سبب بن رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلا واقعہ سور پل کے مقام پر پیش آیا جہاں نوشہرہ کلاں کا رہائشی 12 سالہ طالب علم عمر دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے گہرے پانی میں ڈوب گیا۔ اسی طرح ایک اور واقعے میں نظام پور کے علاقے ماما خیل میں بھی ایک نوجوان دریا کی بپھری لہروں کی نذر ہو کر جاں بحق ہو گیا۔ ڈوبنے کا تیسرا واقعہ اکبرپورہ کے علاقے گھڑی مومن میں پیش آیا، جہاں شعیب اللہ نامی نوجوان دریا میں نہانے کے دوران تیز لہروں کا مقابلہ نہ کر سکا اور ڈوب گیا۔

واقعات کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو الیون ٹو ٹو (1122) کے غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے اور ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ تاہم، ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ اور کابل میں پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کے باعث تاحال لاشوں کو دریا سے نہیں نکالا جا سکا، اور تلاش کا عمل جاری ہے۔