LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد

Web Desk

5 July 2026

انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس (آئی جی آئی پی) علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم کو شہید کرنے والے ملزم سعد کو محض 9 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

آئی جی اسلام آباد کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آیا۔ گروپ کیپٹن عاصم نے ایک نوجوان خاتون اور ملزم کے درمیان جھگڑا دیکھا، تو انسانی ہمدردی اور شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مداخلت کی اور ملزم کو خاتون سے بدتمیزی سے روکا۔ اس دوران ملزم سعد عباسی نے طیش میں آ کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

علی ناصر رضوی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملزم سعد عباسی اور خاتون نمرہ جی-6 کے ایک نجی کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازم تھے۔ ملزم خاتون کو کسی پارک یا دوسری جگہ لے جانا چاہتا تھا جس پر خاتون راضی نہیں تھیں۔ دونوں کا تعلق صرف 10 روز کے پک اینڈ ڈراپ تک محدود تھا اور خاتون ملزم کے گھر سے بھی ناواقف تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ واقعہ پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا جس کے لیے فوری طور پر 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ سیف سٹی کیمروں، اے آئی (AI) ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سرویلنس اور فزیکل انٹیلی جنس کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا گیا۔ واردات کے بعد ملزم نے فرار ہونے کے لیے اسکائی وے سے ٹکٹ لیا، موبائل بند کیا اور کپڑے بھی تبدیل کیے، تاہم پولیس نے مسلسل تعاقب کے بعد اسے دھر لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے عزم ظاہر کیا کہ ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔