LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا اسرائیلی فوج میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی، 14 اہلکار برطرف، قید کی سزا عراق سے مضبوط تعلقات کے خواہاں، فضائی حملوں میں ملیشیا گروپ کو نشانہ بنایا: سعودی عرب امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کینیا میں 15 ہاتھی پراسرار طور پر ہلاک، کیڑے مار ادویات سے آلودہ ٹماٹر کھانے کا شبہ

ٹیک کمپنیاں کتابیں سکین کرنے کے بعد اصل نسخے ضائع کرنے لگیں

Web Desk

31 July 2026

برطانوی میڈیا کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے جدید ماڈلز کی تربیت (ٹریننگ) کے لیے پرانی اور نایاب کتابیں بڑے پیمانے پر خرید کر انہیں تیز رفتار مشینوں سے اسکین کر رہی ہیں، جبکہ اس عمل کے بعد ان کتابوں کے اصل نسخوں کو تلف اور ضائع کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس متنازع منصوبے کا آغاز فروری 2024 میں اس وقت ہوا جب ایک معروف اے آئی کمپنی نے عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ کتب حاصل کرنے کے لیے ایک عملہ تعینات کیا۔ کمپنیاں خصوصاً 2022 سے قبل شائع ہونے والی کتب کی تلاش میں ہیں تاکہ مصنوعی طور پر تیار کردہ (AI-generated) مواد کے بجائے خالص انسانی علم اور مواد کا استعمال کیا جا سکے۔ ماہرین نے اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسکیننگ کے نام پر تاریخی و نایاب نسخوں کا خاتمہ انسانی علم، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔