LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

آسٹریلیا کی دہشتگردی سے متعلق مواد نہ ہٹانے پر ٹیلیگرام کیخلاف قانونی کارروائی

Web Desk

31 July 2026

آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر (eSafety Commissioner) نے دہشت گردی کی حمایت اور پرتشدد مواد بروقت حذف نہ کرنے پر میسجنگ پلیٹ فارم ‘ٹیلیگرام’ (Telegram) کے خلاف وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمین گرانٹ کے مطابق آسٹریلوی صارفین کی نشاندہی کے باوجود ٹیلیگرام نے 2019 کے کرائسٹ چرچ مساجد حملے اور 2022 کے بفیلو فائرنگ واقعے کی ویڈیوز سمیت دیگر پرتشدد مواد کو تقریباً 3 ماہ تک ہٹانے سے گریز کیا۔ آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی قوانین کے تحت ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ٹیلیگرام پر 5 کروڑ 46 لاکھ آسٹریلوی ڈالر (54.6 Million AUD) تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلوی وزیر برائے مواصلات انیکا ویلز نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت پر سمپشوٹ نہ کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے حکومت میں کوئی رعایت نہیں ہے۔