LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ کا ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین اور کویت میں سائرن بج گئے ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا: قالیباف وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی پر اظہار افسوس شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا ایران نے حالیہ امریکی حملوں کیخلاف اقوام متحدہ کو احتجاجی خطوط ارسال کر دیے ایران کا امریکی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران پر موجودہ حملے گزشتہ کارروائیوں سے زیادہ وسیع ہیں، امریکی عہدیدار امریکی حملوں کے بعد چاہ بہار فری زون سے گاڑیاں محفوظ مقامات پر منتقل وزیرِ داخلہ محسن نقوی اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کریں گے، امریکہ ایران امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ، 10 ماہ میں ساڑھے 95 کروڑ ڈالر ملک لے آئے

Web Desk

30 May 2026

کراچی: ملک میں جاری معاشی بحران کے باوجود پاکستان کے آئی ٹی (IT) فری لانسرز نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں میں فری لانسرز کی آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، جولائی سے اپریل تک کے عرصے میں پاکستانی آئی ٹی فری لانسرز 95 کروڑ 90 لاکھ (959 ملین) ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ قانونی ذرائع سے پاکستان لائے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے قوی امید ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسرز مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ ملک میں لانے کا سنگِ میل عبور کر لیں گے۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (جولائی تا اپریل) میں فری لانسرز نے 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے تھے، جبکہ پورے سال کی مجموعی کمائی 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی تھی۔

ماہرین کی ایک حالیہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق، فری لانسرز کی ترسیلاتِ زر میں اس شاندار اضافے کے پیچھے اسٹیٹ بینک اور حکومت کی چند اہم اصلاحات ہیں:

  • بینک اکاؤنٹس میں آسانی: فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے طریقہ کار کو انتہائی آسان بنایا گیا۔

  • ڈالر ریٹینشن پالیسی: فری لانسرز کو اپنے اکاؤنٹس میں غیر ملکی کرنسی کی زائد مقدار رکھنے کی قانونی اجازت دی گئی، جس سے آئی ٹی برآمدات کو فروغ ملا۔

  • سست ٹیکس مراعات: حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے صرف 0.25 فیصد کا رعایتی ٹیکس ریٹ مقرر کیا گیا، جس نے فری لانسرز کو غیر قانونی طریقوں کے بجائے رقم رسمی اور بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان لانے پر مائل کیا۔

دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فری لانسرز کی حقیقی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، رواں سال پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کمائے، تاہم حکومتی سرخ فیتے (بیوروکریسی کی پیچیدگیوں) اور بینکنگ نظام کی رکاوٹوں کے سبب تقریباً 2 ارب ڈالر بینکنگ چینل میں آنے کے بجائے حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر رسمی ذرائع کی نذر ہو گئے۔

فری لانسنگ کمیٹی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ‘پافلا’ (PAFLA) نے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔

پافلا نے مرکزی بینک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فری لانسرز کے لیے انٹرنیشنل اے ٹی ایم (ATM) کارڈز کے ذریعے براہِ راست رقم کی منتقلی کو فعال اور آسان بنایا جائے۔ مزید برآں، تمام کمرشل بینکوں میں فری لانسرز کی رہنمائی اور معاونت کے لیے خصوصی طور پر ‘فری لانسرز ڈیسک’ قائم کیے جائیں تاکہ انہیں اپنی ادائیگیاں وصول کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔