پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ، 10 ماہ میں ساڑھے 95 کروڑ ڈالر ملک لے آئے
Web Desk
30 May 2026
کراچی: ملک میں جاری معاشی بحران کے باوجود پاکستان کے آئی ٹی (IT) فری لانسرز نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں میں فری لانسرز کی آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق، جولائی سے اپریل تک کے عرصے میں پاکستانی آئی ٹی فری لانسرز 95 کروڑ 90 لاکھ (959 ملین) ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ قانونی ذرائع سے پاکستان لائے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے قوی امید ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسرز مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ ملک میں لانے کا سنگِ میل عبور کر لیں گے۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (جولائی تا اپریل) میں فری لانسرز نے 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے تھے، جبکہ پورے سال کی مجموعی کمائی 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی تھی۔
ماہرین کی ایک حالیہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق، فری لانسرز کی ترسیلاتِ زر میں اس شاندار اضافے کے پیچھے اسٹیٹ بینک اور حکومت کی چند اہم اصلاحات ہیں:
-
بینک اکاؤنٹس میں آسانی: فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے طریقہ کار کو انتہائی آسان بنایا گیا۔
-
ڈالر ریٹینشن پالیسی: فری لانسرز کو اپنے اکاؤنٹس میں غیر ملکی کرنسی کی زائد مقدار رکھنے کی قانونی اجازت دی گئی، جس سے آئی ٹی برآمدات کو فروغ ملا۔
-
سست ٹیکس مراعات: حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے صرف 0.25 فیصد کا رعایتی ٹیکس ریٹ مقرر کیا گیا، جس نے فری لانسرز کو غیر قانونی طریقوں کے بجائے رقم رسمی اور بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان لانے پر مائل کیا۔
دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فری لانسرز کی حقیقی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، رواں سال پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کمائے، تاہم حکومتی سرخ فیتے (بیوروکریسی کی پیچیدگیوں) اور بینکنگ نظام کی رکاوٹوں کے سبب تقریباً 2 ارب ڈالر بینکنگ چینل میں آنے کے بجائے حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر رسمی ذرائع کی نذر ہو گئے۔
فری لانسنگ کمیٹی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ‘پافلا’ (PAFLA) نے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔
پافلا نے مرکزی بینک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فری لانسرز کے لیے انٹرنیشنل اے ٹی ایم (ATM) کارڈز کے ذریعے براہِ راست رقم کی منتقلی کو فعال اور آسان بنایا جائے۔ مزید برآں، تمام کمرشل بینکوں میں فری لانسرز کی رہنمائی اور معاونت کے لیے خصوصی طور پر ‘فری لانسرز ڈیسک’ قائم کیے جائیں تاکہ انہیں اپنی ادائیگیاں وصول کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
متعلقہ عنوانات
رسائیِ مالیات اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس: ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کا جائزہ
25 August 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز
24 August 2026
ایرانی کرنسی نئی امریکی پابندیوں کے باعث تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
24 August 2026
سونا مسلسل تیسرے روز بھی ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر: فی تولہ قیمت میں 5 ہزار 700 روپے کا اضافہ
22 August 2026
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران منفی رجحان
22 August 2026
وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں اضافہ کر دیا
21 August 2026
عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ
21 August 2026
پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت
21 August 2026