LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

سمندری غذاؤں میں موجود وائرس کس خطرناک بیماری کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

11 April 2026

طبی تحقیق کی دنیا میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق جھینگوں اور دیگر آبی حیات کو متاثر کرنے والا ایک وائرس اب انسانوں میں آنکھوں کی نئی اور خطرناک بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ چینی سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق، کوورٹ مورٹیلٹی نوڈا وائرس (CMNV) انسانوں میں ایک خاص قسم کی بیماری ’پرسسٹنٹ آکیولر ہائپرٹینشن وائرل اینٹیریئر یووائٹس‘ (POH-VAU) پیدا کر رہا ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل نابینا پن کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے اس مخصوص بیماری میں مبتلا مریضوں کی آنکھوں کے ٹشوز کا معائنہ کیا، جس میں مذکورہ وائرس کے واضح شواہد پائے گئے۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ افراد کی اکثریت نے حال ہی میں کچی سمندری خوراک (Raw Seafood) کے استعمال یا آبی جانوروں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کی ہے۔ یہ وائرس پہلے صرف سمندری غذاؤں تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کی انسانوں میں منتقلی نے ماہرینِ صحت کو چونکا دیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، اگر CMNV اور انسانی آنکھوں کی بیماری کے درمیان یہ تعلق مکمل طور پر ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ دنیا کا پہلا ایسا وائرس ہوگا جو آبی حیات سے انسانوں میں منتقل ہو کر آنکھوں کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس مستقبل میں صحت کے ایک بڑے عالمی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اس لیے سمندری غذا کے استعمال میں احتیاط اور اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید تحقیق کی فوری ضرورت ہے۔