LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے

سمندری غذاؤں میں موجود وائرس کس خطرناک بیماری کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

11 April 2026

طبی تحقیق کی دنیا میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق جھینگوں اور دیگر آبی حیات کو متاثر کرنے والا ایک وائرس اب انسانوں میں آنکھوں کی نئی اور خطرناک بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ چینی سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق، کوورٹ مورٹیلٹی نوڈا وائرس (CMNV) انسانوں میں ایک خاص قسم کی بیماری ’پرسسٹنٹ آکیولر ہائپرٹینشن وائرل اینٹیریئر یووائٹس‘ (POH-VAU) پیدا کر رہا ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل نابینا پن کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے اس مخصوص بیماری میں مبتلا مریضوں کی آنکھوں کے ٹشوز کا معائنہ کیا، جس میں مذکورہ وائرس کے واضح شواہد پائے گئے۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ افراد کی اکثریت نے حال ہی میں کچی سمندری خوراک (Raw Seafood) کے استعمال یا آبی جانوروں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کی ہے۔ یہ وائرس پہلے صرف سمندری غذاؤں تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کی انسانوں میں منتقلی نے ماہرینِ صحت کو چونکا دیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، اگر CMNV اور انسانی آنکھوں کی بیماری کے درمیان یہ تعلق مکمل طور پر ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ دنیا کا پہلا ایسا وائرس ہوگا جو آبی حیات سے انسانوں میں منتقل ہو کر آنکھوں کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس مستقبل میں صحت کے ایک بڑے عالمی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اس لیے سمندری غذا کے استعمال میں احتیاط اور اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید تحقیق کی فوری ضرورت ہے۔