LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار

Web Desk

30 May 2026

سنگاپور: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اتحادی ممالک پر واضح کیا ہے کہ امریکا اب امیر ترین ممالک کے دفاعی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی پالیسی ترک کر رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بیجنگ کے کامیاب دورے کے بعد پاکٹ خطے میں پاک چین-امریکا تعلقات کئی سالوں کی نسبت بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

سنگاپور میں منعقدہ ایشیا کے سب سے بڑے سالانہ دفاعی فورم ’شانگری لا ڈائیلاگ‘ (Shangri-La Dialogue) سے خطاب کرتے ہوئے پنتاگون کے چیف پیٹ ہیگستھ نے امریکی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ترین اسٹریٹجک تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے واشنگٹن کے روایتی شراکت داروں کو یاد دہانی کروائی کہ “امیر ممالک کے دفاع کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سبسڈی دینے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔”

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا مائنڈ سیٹ بالکل واضح ہے کہ اتحاد صرف اسی صورت کام کرتے ہیں جب وہ حقیقی شراکت داری پر مبنی ہوں، جہاں ہر ملک اپنی ذمہ داری خود اٹھائے۔

  • دفاعی بجٹ میں اضافہ کا مطالبہ: انہوں نے ایشیائی اور عالمی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے کم از کم 3.5 فیصد تک بڑھائیں۔

  • خود انحصاری کی ترغیب: پیٹ ہیگستھ نے کہا، “ہمیں ایسے شراکت دار (پارٹنرز) چاہئیں جو خود انحصار ہوں، نہ کہ ایسے جو صرف امریکا کے رحم و کرم پر رہیں (پروٹیکٹوریٹس)۔

اپنے خطاب میں انہوں نے چین کی جانب سے خطے میں تاریخی فوجی طاقت بڑھانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک انڈو-پسیفک (بحرالکاہل) کے خطے پر اپنی اجارہ داری قائم نہیں کر سکتا۔ اگر کسی ایک ملک نے بالا دستی قائم کرنے کی کوشش کی تو اس سے طاقت کا توازن مکمل طور پر بگڑ جائے گا، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ چین کو اس خطے میں امریکی پوزیشن اور تاریخی موجودگی کا ہر صورت احترام کرنا ہوگا۔

تاہم، گزشتہ سال کے سخت ترین بیانات کے برعکس اس بار امریکی وزیر دفاع کا لہجہ چین کے حوالے سے کافی نرم رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں سب سے بہترین موڑ پر ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا حادثاتی کشیدگی سے بچنے کے لیے امریکی اور چینی ہم منصبوں اور عسکری قیادت کے درمیان باقاعدہ فوجی رابطے (Military-to-Military Communication) بحال رکھے جا رہے ہیں۔ امریکا خطے میں بلاوجہ کا تصادم نہیں بلکہ پرامن بقائے باہمی، مضبوط اور واضح طاقت کے ذریعے امن کا خواہاں ہے۔