LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار

Web Desk

30 May 2026

سنگاپور: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اتحادی ممالک پر واضح کیا ہے کہ امریکا اب امیر ترین ممالک کے دفاعی اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی پالیسی ترک کر رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بیجنگ کے کامیاب دورے کے بعد پاکٹ خطے میں پاک چین-امریکا تعلقات کئی سالوں کی نسبت بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

سنگاپور میں منعقدہ ایشیا کے سب سے بڑے سالانہ دفاعی فورم ’شانگری لا ڈائیلاگ‘ (Shangri-La Dialogue) سے خطاب کرتے ہوئے پنتاگون کے چیف پیٹ ہیگستھ نے امریکی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ترین اسٹریٹجک تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے واشنگٹن کے روایتی شراکت داروں کو یاد دہانی کروائی کہ “امیر ممالک کے دفاع کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سبسڈی دینے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔”

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا مائنڈ سیٹ بالکل واضح ہے کہ اتحاد صرف اسی صورت کام کرتے ہیں جب وہ حقیقی شراکت داری پر مبنی ہوں، جہاں ہر ملک اپنی ذمہ داری خود اٹھائے۔

  • دفاعی بجٹ میں اضافہ کا مطالبہ: انہوں نے ایشیائی اور عالمی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے کم از کم 3.5 فیصد تک بڑھائیں۔

  • خود انحصاری کی ترغیب: پیٹ ہیگستھ نے کہا، “ہمیں ایسے شراکت دار (پارٹنرز) چاہئیں جو خود انحصار ہوں، نہ کہ ایسے جو صرف امریکا کے رحم و کرم پر رہیں (پروٹیکٹوریٹس)۔

اپنے خطاب میں انہوں نے چین کی جانب سے خطے میں تاریخی فوجی طاقت بڑھانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک انڈو-پسیفک (بحرالکاہل) کے خطے پر اپنی اجارہ داری قائم نہیں کر سکتا۔ اگر کسی ایک ملک نے بالا دستی قائم کرنے کی کوشش کی تو اس سے طاقت کا توازن مکمل طور پر بگڑ جائے گا، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ چین کو اس خطے میں امریکی پوزیشن اور تاریخی موجودگی کا ہر صورت احترام کرنا ہوگا۔

تاہم، گزشتہ سال کے سخت ترین بیانات کے برعکس اس بار امریکی وزیر دفاع کا لہجہ چین کے حوالے سے کافی نرم رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں سب سے بہترین موڑ پر ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا حادثاتی کشیدگی سے بچنے کے لیے امریکی اور چینی ہم منصبوں اور عسکری قیادت کے درمیان باقاعدہ فوجی رابطے (Military-to-Military Communication) بحال رکھے جا رہے ہیں۔ امریکا خطے میں بلاوجہ کا تصادم نہیں بلکہ پرامن بقائے باہمی، مضبوط اور واضح طاقت کے ذریعے امن کا خواہاں ہے۔