LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا

Web Desk

30 May 2026

واشنگٹن: واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے دارالحکومت کے تاریخی ثقافتی مرکز ’کینیڈی سینٹر‘ (Kennedy Center) کو بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے لیے بند کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ اس آرٹس سینٹر کے ساتھ صدر ٹرمپ کا نام جوڑنا سراسر غیر قانونی تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق، وفاقی جج کرسٹوفر کوپر نے اپنے فیصلے میں کینیڈی سینٹر کے بورڈ کی جانب سے 16 مارچ کو سہولت کو بند کرنے کے حق میں دیے گئے ووٹ کو “غیر معلوماتی اور پہلے سے طے شدہ” قرار دیا، جس میں قانونی ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال جولائی سے یہ مرکز دو سال کے لیے بند رہے گا، تاہم عدالتی فیصلے نے ان منصوبوں پر فی الحال پانی پھیر دیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ صدر ٹرمپ کی ان کوششوں کے لیے ایک تازہ ترین قانونی دھچکا ہے جس کے ذریعے وہ امریکی دارالحکومت کے اہم مقامات پر اپنے ذاتی نام کی چھاپ چھوڑنا چاہتے ہیں۔

“اگر میں اپنی مرضی نہ کر سکوں تو مجھے کوئی دلچسپی نہیں” — ڈونلڈ ٹرمپ

عدالتی فیصلے کے ردِعمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اس مجوزہ تزئین و آرائش کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس آرٹس انسٹی ٹیوٹ کا کنٹرول واپس کانگریس کے حوالے کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social) پر لکھا: “جب تک میں وہ کام کرنے کے لیے آزاد نہ ہوں جو میں کسی بھی دوسرے شخص سے بہتر طریقے سے کرنا جانتا ہوں—یعنی اس ادارے کو جسمانی، مالی اور فنکارانہ طور پر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا—تب تک مجھے اس بے سود سفر کو جاری رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں، جو مجھے صرف ایک ناممکن خوابوں کی دنیا (NEVER NEVER LAND) کی طرف لے جائے۔”

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کینیڈی سینٹر کی تزئین و آرائش اور اس کا نام تبدیل کرنے کی کوششوں کو واشنگٹن کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، جسے اب عدالت نے بھی غیر قانونی قرار دے کر روک دیا ہے۔