LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک مریم نواز کا نیپال میں سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات، ملکی بندرگاہوں کی بہتری میں اہم پیشرفت مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار، بھارتی نوجوان ایک مرتبہ پھر احتجاج پر مجبور ایران کی ترکیہ میں امریکی صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے کی تردید پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر مشعال ملک کا پمز ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج دنیا سوشل میڈیا سے متاثر، نوجوان حقائق پر مبنی تجزیاتی صلاحیت کو فروغ دیں: فیلڈ مارشل آسٹریلیا: ہزاروں کاروباری اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے والے ملزمان کیخلاف 14 مقدمات درج برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، صارفین کا حساس ڈیٹا چوری

پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ

Web Desk

30 May 2026

سنگاپور: امریکی وزیر دفاع (سیکریٹری آف ڈیفنس) پیٹ ہیگستھ نے پاکستان کو امریکا کا ایک مخلص دوست قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب اپنے امیر ترین اتحادیوں کے دفاع کا مفت بوجھ اٹھانے کی پالیسی ترک کر رہا ہے، جبکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باوجود امریکا ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے بھی مکمل تیار ہے۔

سنگاپور میں منعقدہ ایشیا کے سب سے بڑے دفاعی فورم ’شانگری لا ڈائیلاگ‘ (Shangri-La Dialogue) سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پنتاگون کے چیف پیٹ ہیگستھ نے امریکی خارجہ اور عسکری پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم اور اسٹریٹجک اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ تہران کے ساتھ حالیہ مذاکرات اچھے رہے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کوئی معاہدہ کریں گے کیونکہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

“مفت فائدہ اٹھانے کی گنجائش نہیں”، اتحادیوں سے بجٹ بڑھانے کا مطالبہ

امریکی وزیر دفاع نے صدر ٹرمپ کے روایتی سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے یورپی، نیٹو اور ایشیائی اتحادیوں پر واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا۔

  • 3.5 فیصد جی ڈی پی کا ہدف: امریکا توقع رکھتا ہے کہ تمام ایشیائی اتحادی ممالک اپنے دفاع پر مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا کم از کم 3.5 فیصد خرچ کریں، جبکہ امریکا خود اپنی فوج پر 1.5 ٹریلین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

  • شراکت دار چاہئیں، محتاج نہیں: پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا، “امیر ممالک کے دفاعی اخراجات امریکا کی جانب سے برداشت کرنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ہمیں محافظت کے محتاج (پروٹیکٹوریٹس) نہیں بلکہ حقیقی شراکت دار درکار ہیں۔ کوئی بھی اتحاد تبھی مضبوط ہوتا ہے جب سب اپنا حصہ ڈالیں، اب مفت فائدہ اٹھانے (Free Riding) کی کوئی گنجائش نہیں۔”

انہوں نے آسٹریلیا، جنوبی کوریا، فلپائن، سنگاپور، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور جاپان کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے کے اقدامات کو سراہا۔

بحرالکاہل میں چین کی عسکری توسیع پر تشویش

پیٹ ہیگستھ نے بیجنگ کو خبردار کیا کہ چین کی تیز رفتار فوجی ترقی اور خطے سمیت دنیا بھر میں اس کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر جائز تشویش پائی جاتی ہے۔ اگر بحرالکاہل (انڈو-پسیفک) پر کسی ایک طاقت کا غلبہ قائم ہو گیا تو خطے کا توازنِ طاقت بکھر جائے گا۔ چین سمیت کوئی بھی ملک اپنی بالادستی مسلط نہیں کر سکتا اور نہ ہی امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “آبنائے ہرمز پر کوئی بھی ٹول ٹیکس قبول نہیں کیا جائے گا۔”

تاہم، انہوں نے پاک چین-امریکا تعلقات پر متوازن مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین فوجی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطے کشیدگی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے رہے ہیں اور عسکری رابطوں کے ذرائع کھلے ہیں۔ تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے امریکی اسلحے کے زیرِ التوا پیکیج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ خود کریں گے۔

ایران کو انتباہ اور یوکرین کے لیے عزم

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو امریکا ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور صدر ٹرمپ اس وقت محض صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے واشنگٹن کی ایشیا بحرالکاہل کی ترجیحات اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر متاثر نہیں ہوں گے، “ہم ایک وقت میں دو کام کامیابی سے کر سکتے ہیں”۔

انہوں نے چینی ہم منصب سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے یہ عزم بھی دہرایا کہ امریکا یوکرین کی فوجی مدد کے لیے یورپی ممالک سے مکمل تعاون جاری رکھے گا اور یوکرین کو جنگ کے لیے جو بھی امداد درکار ہوگی، واشنگٹن اسے ہر صورت فراہم کرے گا۔