پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ
Web Desk
30 May 2026
سنگاپور: امریکی وزیر دفاع (سیکریٹری آف ڈیفنس) پیٹ ہیگستھ نے پاکستان کو امریکا کا ایک مخلص دوست قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب اپنے امیر ترین اتحادیوں کے دفاع کا مفت بوجھ اٹھانے کی پالیسی ترک کر رہا ہے، جبکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باوجود امریکا ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے بھی مکمل تیار ہے۔
سنگاپور میں منعقدہ ایشیا کے سب سے بڑے دفاعی فورم ’شانگری لا ڈائیلاگ‘ (Shangri-La Dialogue) سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پنتاگون کے چیف پیٹ ہیگستھ نے امریکی خارجہ اور عسکری پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم اور اسٹریٹجک اعلانات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ تہران کے ساتھ حالیہ مذاکرات اچھے رہے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کوئی معاہدہ کریں گے کیونکہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
“مفت فائدہ اٹھانے کی گنجائش نہیں”، اتحادیوں سے بجٹ بڑھانے کا مطالبہ
امریکی وزیر دفاع نے صدر ٹرمپ کے روایتی سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے یورپی، نیٹو اور ایشیائی اتحادیوں پر واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا۔
-
3.5 فیصد جی ڈی پی کا ہدف: امریکا توقع رکھتا ہے کہ تمام ایشیائی اتحادی ممالک اپنے دفاع پر مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا کم از کم 3.5 فیصد خرچ کریں، جبکہ امریکا خود اپنی فوج پر 1.5 ٹریلین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
-
شراکت دار چاہئیں، محتاج نہیں: پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا، “امیر ممالک کے دفاعی اخراجات امریکا کی جانب سے برداشت کرنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ہمیں محافظت کے محتاج (پروٹیکٹوریٹس) نہیں بلکہ حقیقی شراکت دار درکار ہیں۔ کوئی بھی اتحاد تبھی مضبوط ہوتا ہے جب سب اپنا حصہ ڈالیں، اب مفت فائدہ اٹھانے (Free Riding) کی کوئی گنجائش نہیں۔”
انہوں نے آسٹریلیا، جنوبی کوریا، فلپائن، سنگاپور، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور جاپان کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے کے اقدامات کو سراہا۔
بحرالکاہل میں چین کی عسکری توسیع پر تشویش
پیٹ ہیگستھ نے بیجنگ کو خبردار کیا کہ چین کی تیز رفتار فوجی ترقی اور خطے سمیت دنیا بھر میں اس کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر جائز تشویش پائی جاتی ہے۔ اگر بحرالکاہل (انڈو-پسیفک) پر کسی ایک طاقت کا غلبہ قائم ہو گیا تو خطے کا توازنِ طاقت بکھر جائے گا۔ چین سمیت کوئی بھی ملک اپنی بالادستی مسلط نہیں کر سکتا اور نہ ہی امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “آبنائے ہرمز پر کوئی بھی ٹول ٹیکس قبول نہیں کیا جائے گا۔”
تاہم، انہوں نے پاک چین-امریکا تعلقات پر متوازن مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین فوجی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطے کشیدگی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے رہے ہیں اور عسکری رابطوں کے ذرائع کھلے ہیں۔ تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے امریکی اسلحے کے زیرِ التوا پیکیج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ خود کریں گے۔
ایران کو انتباہ اور یوکرین کے لیے عزم
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو امریکا ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور صدر ٹرمپ اس وقت محض صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے واشنگٹن کی ایشیا بحرالکاہل کی ترجیحات اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر متاثر نہیں ہوں گے، “ہم ایک وقت میں دو کام کامیابی سے کر سکتے ہیں”۔
انہوں نے چینی ہم منصب سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے یہ عزم بھی دہرایا کہ امریکا یوکرین کی فوجی مدد کے لیے یورپی ممالک سے مکمل تعاون جاری رکھے گا اور یوکرین کو جنگ کے لیے جو بھی امداد درکار ہوگی، واشنگٹن اسے ہر صورت فراہم کرے گا۔
متعلقہ عنوانات
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے
13 July 2026
یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں
13 July 2026
امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان
13 July 2026
یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان
13 July 2026
خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی
13 July 2026
ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی
13 July 2026
لاہور، واٹر لینڈ پارک میں 9 سالہ بچی کی ہلاکت، منیجرسمیت 3 ذمہ دار گرفتار
13 July 2026
لاڑکانہ میں پولیس کی کارروائی، بدنام زمانہ منشیات فروش خاتون گرفتار
13 July 2026