اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے
Web Desk
2 March 2026
اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر تھا اور قاری کے دل میں دیر تک گھر کر جاتا تھا۔
شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد کالجوں میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔
ادب میں ان کی خدمات کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے سراہا گیا، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب، مسافت رائیگاں، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔
شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی یاد آج بھی اردو ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔
متعلقہ عنوانات
فلم ’گھوسٹ اسکول‘ 3 ماہ کی قانونی جدوجہد کے بعد سندھ میں ریلیز کیلئے تیار
22 October 2026
بھارتی گلوکار کرشناراج 75 برس کی عمر میں چل بسے، فلمی دنیا سوگوار
22 October 2026
جھانوی کپور کی نامناسب تصاویر بنانے پر پاپا رازیوں سے ملاقات
22 October 2026
جرمن گیمنگ انفلوئنسر مینوئل اوٹو 30 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
22 October 2026
سجاد علی کے بھائی وقار علی پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا
22 October 2026
لاہور: جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال، یوٹیوبر رجب بٹ کی لینڈ کروزر تھانے بند، مقدمہ درج
21 October 2026
’دی راک‘ کے نئے لک کے پیچھے کیا راز ہے؟ اداکار کی حالت دیکھ کر مداح حیران
21 October 2026
ٹائیگر شروف حملہ آوروں کا اصل ہدف نہیں تھے، تفتیش میں اہم انکشاف
21 October 2026