LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں دھماکا،4 امریکیوں سمیت 6 افراد ہلاک راولپنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر، شہریوں کو مشکلات کا سامنا سہیل آفریدی کوبانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایران تجارت نہیں کرسکتا تو کوئی بھی تجارت نہیں کرے گا،ایرانی آرمی چیف یمنی فورسز کا حالیہ حملوں میں 4 ایرانی عسکری ماہرین کی ہلاکت کا دعویٰ امریکا صرف ایران کو مٹانے یا تباہ کرنے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے، ایرانی صدر ایرانی فوج کا خطے میں واشنگٹن کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان دھمکیوں اور پابندیوں سے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے، کاظم غریب آبادی ڈی آئی خان: چیک پوسٹ پر خودکش حملے کا مقدمہ درج، دہشتگردی سمیت 14 دفعات شامل چند ہفتوں میں ایران کے پاس تجارت یا بارٹر کیلئے کچھ نہیں بچے گا، سکاٹ بیسنٹ

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے

Web Desk

2 March 2026

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر تھا اور قاری کے دل میں دیر تک گھر کر جاتا تھا۔

شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد کالجوں میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔

ادب میں ان کی خدمات کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے سراہا گیا، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب، مسافت رائیگاں، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی یاد آج بھی اردو ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔