LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان روس نے اسرائیل کے ماسکو پر یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی پیوٹن کو انسان دوست قرار دینے پر زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف پر تنقید یمنی فوج کے 780 فضائی اور فوجی حملے، 512 حوثی باغی ہلاک اور زخمی خوبصورت منظر کی تصویر لیتے امریکی خاتون گہری کھائی میں گر کر ہلاک امارات، قطر سمیت عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ کی سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی بارے تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال مصر کا یمن کے تنازع کے سفارتی حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور روس کی کیف پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش، 630 ڈرون داغنے کا دعویٰ امریکی صدر کا ایلون مسک سے رابطہ، یوکرین کیلئے انٹرنیٹ سروس پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے

Web Desk

2 March 2026

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر تھا اور قاری کے دل میں دیر تک گھر کر جاتا تھا۔

شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد کالجوں میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔

ادب میں ان کی خدمات کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے سراہا گیا، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب، مسافت رائیگاں، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی یاد آج بھی اردو ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔