LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے

Web Desk

2 March 2026

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر تھا اور قاری کے دل میں دیر تک گھر کر جاتا تھا۔

شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد کالجوں میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔

ادب میں ان کی خدمات کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے سراہا گیا، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب، مسافت رائیگاں، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی یاد آج بھی اردو ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔