LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے سینیٹ کمیٹی نے نیپرا سے تمام آئی پی پیز کی تفصیلات طلب کرلیں پاکستان میں 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت آزاد کشمیر الیکشن، بلاول شکست تسلیم کرکے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں: احسن اقبال بحیرہ کیسپین میں ایرانی جہاز پر حملہ، روس کا یوکرین پر سخت ردعمل الزام سے کچھ نہیں ہوگا، بلاول اپنے بیانیے اور کارکردگی پر مزید محنت کریں: مریم نواز آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی ہوئی، عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے: بلاول بھٹو ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، مگر مہنگائی بدستور بڑا چیلنج ہے: ایس اینڈ پی گلوبل رپورٹ قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، امن و اتحاد کا فروغ ہے: طاہر اشرفی پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے

Web Desk

2 March 2026

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر تھا اور قاری کے دل میں دیر تک گھر کر جاتا تھا۔

شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد کالجوں میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔

ادب میں ان کی خدمات کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے سراہا گیا، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب، مسافت رائیگاں، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی یاد آج بھی اردو ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔