LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے سینیٹ کمیٹی نے نیپرا سے تمام آئی پی پیز کی تفصیلات طلب کرلیں پاکستان میں 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت آزاد کشمیر الیکشن، بلاول شکست تسلیم کرکے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں: احسن اقبال بحیرہ کیسپین میں ایرانی جہاز پر حملہ، روس کا یوکرین پر سخت ردعمل الزام سے کچھ نہیں ہوگا، بلاول اپنے بیانیے اور کارکردگی پر مزید محنت کریں: مریم نواز آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی ہوئی، عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے: بلاول بھٹو ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، مگر مہنگائی بدستور بڑا چیلنج ہے: ایس اینڈ پی گلوبل رپورٹ قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، امن و اتحاد کا فروغ ہے: طاہر اشرفی پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

سینیٹ کمیٹی نے نیپرا سے تمام آئی پی پیز کی تفصیلات طلب کرلیں

Web Desk

28 July 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے ملک میں بجلی کی پیداوار اور قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے تمام آئی پی پیز کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی نے نیپرا سے ہدایت کی ہے کہ آئی پی پیز کے مالکان کے نام، ان کے پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت (استعداد کار) اور بجلی کی واقعی پیداوار کے تمام اعداد و شمار جلد از جلد پیش کیے جائیں۔

کمیٹی کے اجلاس کے دوران نیپرا حکام نے آئی پی پیز کو کی جانے والی اربوں روپے کی ادائیگیاں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بریفنگ دی کہ گزشتہ سال آئی پی پیز کو 1,149 ارب روپے انرجی چارجز کی مد میں جبکہ 1,800 ارب روپے کیپیسٹی چارجز (پلانٹ کی بجلی بنائے بغیر ادا کی جانے والی رقم) کی مد میں ادا کیے گئے۔ حکام کے مطابق رواں سال اپریل تک آئی پی پیز کو مزید 1,023 ارب روپے انرجی چارجز اور 1,430 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے جا چکے ہیں۔

نیپرا حکام نے اجلاس کو مزید بتایا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال کے دوران قومی خزانے سے آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر 7,275 ارب روپے سے زائد کی رقم ادا کی جا چکی ہے۔ اتنی خطیر رقم کی ادائیگیاں سامنے آنے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور پاور سیکٹر میں شفافیت لانے کے لیے آئی پی پیز کے تمام معاہدوں اور ان کے مالکان سے متعلق مزید چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔