LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پشاور میں امریکی قونصل خانہ عارضی طور پر بند ایران کے خلاف کارروائی دنیا کے امن کیلئے ضروری تھی، نیتن یاہو کا ٹرمپ سے اظہارِ تشکر ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا امکان رد نہیں کیا، صدر ٹرمپ کا بیان چین کی ایران کی خودمختاری کے دفاع میں مکمل حمایت کا اعلان اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شریک نہیں، برطانوی وزیر اعظم کا دوٹوک اعلان ابوظبی میں 3روز سے پھنسے مسافروں کی روانگی، متعدد ایئرلائنز کی خصوصی پروازیں اسرائیل کا حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کی شہادت کا دعویٰ 500امریکی واسرائیلی اہداف کونشانہ بنایاجاچکا، طویل جنگ کی تیاری کررہےہیں، ایران ایرانی قیادت کے خلاف آپریشن توقع سے زیادہ تیزی سے مکمل ہوگیا، امریکی صدر ایران پر امریکی واسرائیل حملوں میں شہادتوں کی تعداد555ہوگئی،نطنز نیوکلیئرپلانٹ پر بھی حملہ ایران میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد4ہوگئی، سینٹرل کمانڈ ایران کے اسرائیل، خلیجی ممالک میں مختلف امریکی اڈوں پرحملے جاری،7زخمی، املاک کو شدید نقصان کویت ، دفاعی نظام کی زدمیں آکر3امریکی ایف15طیارے غلطی سے تباہ، امریکا کی تصدیق خلیجی ملکوں پرایرانی حملے افسوسناک ، پاکستان مذاکرات پر زور دیتا ہے: اسحاق ڈار بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہو سکتا: صدر زرداری

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کو دنیا چھوڑے 22 برس بیت گئے

Web Desk

2 March 2026

اردو ادب کی نامور شاعرہ، ادیب اور ماہر تعلیم شبنم شکیل کی 22 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ شبنم شکیل نے اردو ادب میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی منفرد پہچان قائم کی اور خواتین کے جذبات و مسائل کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پر اثر تھا اور قاری کے دل میں دیر تک گھر کر جاتا تھا۔

شبنم شکیل نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری اور اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد کالجوں میں لیکچرار کے طور پر کام کیا۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین 1965ء میں شائع ہوئی۔

ادب میں ان کی خدمات کو مختلف ایوارڈز اور اعزازات سے سراہا گیا، جن میں 2005ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعے، مضامین اور افسانوں پر مشتمل کتابیں شب زاد، اضطراب، مسافت رائیگاں، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے شائع ہوئیں۔

شبنم شکیل 2 مارچ 2004ء کو کراچی میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی یاد آج بھی اردو ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔