اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شریک نہیں، برطانوی وزیر اعظم کا دوٹوک اعلان
Web Desk
2 March 2026
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں میں برطانیہ شریک نہیں تھا اور نہ ہی وہ اسرائیل اور امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا حصہ بن رہا ہے۔
پارلیمنٹ میں جنگی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے سر کئیر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کا مؤقف واضح ہے اور وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
وزیر اعظم نے امریکی صدر کی جانب سے برطانیہ کے مؤقف پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ذمہ داری قومی مفاد کا تحفظ ہے اور وہ اپنے فیصلوں پر قائم رہیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، تاہم موجودہ صورتحال میں عراق جنگ جیسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔
سر کئیر اسٹارمر کے مطابق برطانوی شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی لیے برطانوی جیٹ طیارے مربوط دفاعی اقدامات کیلئے فضا میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی اڈوں کی سہولت اس لیے فراہم کی گئی تاکہ میزائل داغنے والے مقامات اور لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
خارگ پر حملہ، متحدہ عرب امارات میں امریکی ٹھکانے اب جائز اہداف ہیں: پاسداران انقلاب
14 March 2026
پاکستان اور امتِ مسلمہ کو سنجیدگی سے اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان
14 March 2026
پٹرولیم کفایت شعاری سے حاصل رقم عوامی فلاح کیلئے استعمال ہوگی: وزیراعظم
14 March 2026
کسٹمز نے سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا: شرجیل میمن
14 March 2026
پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی مزید 25 پروازیں منسوخ
14 March 2026
چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا
14 March 2026
امریکا کا ایران کے سکول پر حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ
14 March 2026
ورلڈکپ سے امیدیں پوری نہیں ہوئیں، کوچ اور کپتان مل کر کھلاڑی چنتے ہیں: عاقب جاوید
14 March 2026