LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت چین کا امریکا سے خود مختار ریاستوں میں آزادانہ انتخابات میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ ہیٹی میں گینگ کے حملے میں 40 افراد ہلاک، درجنوں گھر نذر آتش امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 4 اہلکار محفوظ امریکا نے ایران پر حملوں کو پابندیوں میں منتقل کر دیا، مارکو روبیو عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کیساتھ بات چیت کو تعمیری قرار دے دیا امریکا اور ایران نے نئی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا: روسی میڈیا کا دعویٰ اسلامی اقوام میں بیداری اور اتحاد دشمن کی سازشوں کا واحد توڑ ہے، ایرانی صدر عمان کے ساتھ معاہدے کا مطلب آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا نہیں، کاظم غریب آبادی کینیڈا نے تقریباً 700 امریکی مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد ٹیرف لگا دیے ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کو سہارا دینے والے تمام معاشی ذرائع ختم کرنے کا اعلان ایران اور عمان کا ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق امریکا نے عالمی سلامتی خطرے میں ڈال دی: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی قیادت کے خلاف آپریشن توقع سے زیادہ تیزی سے مکمل ہوگیا، امریکی صدر

Web Desk

2 March 2026

 

امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طویل آپریشن کا اندازہ لگایا تھا۔۔لیکن فوجی کارروائی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف کیے گئے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔

برطانوی اخبارکو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہاکہ ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرنے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی دن میں ہوگیا۔ عسکری ماہرین اس آپریشن کو تقریباً 4 ہفتوں کا آپریشن سمجھ رہے تھے ۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی کئی ہفتوں سے کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔اسی دوران سی آئی اے کو ایک اہم معلومات ملیں اور ہم نے یہ نادر موقع ضائع نہ ہونے دینے کا فیصلہ لیا۔

امریکی صدر کاکہناتھاکہ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اب وقت نکل گیا انہیں یہ فیصلہ پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا۔

ڈونلڈٹرمپ نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعض فیصلوں سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ برطانیہ نے بحرِ ہند میں واقع اہم فوجی اڈے ڈیگو گارسیا کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی جس سے انہیں مایوسی ہوئی۔