LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ دادگستری کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم, 10افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام صدر ٹرمپ کی فنڈ ریزنگ تقریب سے چند گھنٹے قبل گالف کلب سے مسلح شخص گرفتار روس نے کیف کے متعدد علاقوں پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے، ہنگامی صورتحال پیدا امریکا ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ثالثی سے نمایاں پیشرفت ہوئی: قطر جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ایتھوپیا کے شمالی علاقے امہارا میں شدید بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، 14 افراد ہلاک بھارت کے 5 اگست کے اقدامات عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں: عطا تارڑ یمن کے قریب بحیرۂ احمر میں بھارتی کارگو جہاز پروجیکٹائل حملے کے بعد ڈوب گیا سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور ’’یوم استحصال کشمیر‘‘جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے: شرجیل میمن بلاول بھٹو دل بڑا کریں، لیڈر شکست پر روتے اچھے نہیں لگتے: طلال چودھری ’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ ایران کیساتھ جنگ، امریکا کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کی کمی کا سامنا

ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا امکان رد نہیں کیا، صدر ٹرمپ کا بیان

Web Desk

2 March 2026

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کے مطابق ہر آپشن زیر غور رکھا جائے گا۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ دیگر صدور کی طرح پیشگی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ امریکا کبھی زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ زمینی فوج کی ضرورت پیش نہ آئے، تاہم یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ حالات ایسے رخ اختیار کر جائیں جہاں یہ قدم ناگزیر ہو جائے۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کے اہداف واضح ہیں، ایران کی میزائل صلاحیت اور بحری قوت کو غیر مؤثر بنانا اور اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر شدت پسند عناصر کو ہتھیار، مالی وسائل اور رہنمائی فراہم کرنے سے بھی روکنا ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام جوہری صلاحیت کے تحفظ کیلئے ترتیب دیا گیا تھا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ اور امریکا دونوں کیلئے ناقابل برداشت خطرہ بن سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی لیکن معاہدے ناکام رہے، اسی وجہ سے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ حملہ آخری اور بہترین موقع سمجھتے ہوئے کیا گیا تاکہ مبینہ خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے دس بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور اس کی میزائل بنانے کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن طے شدہ مدت سے آگے بڑھ رہا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو کارروائی طویل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے سے 2018 میں علیحدگی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک خطرناک معاہدہ تھا اور اسے ختم کرنا ضروری تھا۔