LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مودی سرکار نے احتجاج روکنے کیلئے دہلی کو مقبوضہ علاقہ بنا دیا، جگہ جگہ فوج تعینات سہیل آفریدی کا مارچ ٹھس، بس تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں: امیر مقام مارچ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور تمام جائز مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا: شوکت یوسفزئی فرانس کی ایران کیلئے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت دوہرا معیار ہے: اسماعیل بقائی ایمرجنسی سے متعلق غور و خوض مکمل ہوگیا، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگےگی: طارق فضل فلائی دبئی واقعہ کا ملزم اسرائیلی بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا: اماراتی اٹارنی جنرل ٹرمپ نے کیٹی زکریا کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری نامزد کردیا: امریکی اخبار پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان 7 نکات پر مذاکرات جاری ہونے کا انکشاف روسی حملوں سے یوکرین میں مزید ہلاکتیں، زیلنسکی کا نیٹو سے دفاعی امداد کا مطالبہ سعودی عرب اپنی سلامتی کے دفاع کا حق رکھتا ہے، سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل حوثیوں کا خطرہ اب یمن کا اندرونی معاملہ نہیں رہا، یمنی مندوب پاناما میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری ایران اب بھی امریکا کو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بلومبرگ روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، صدر ٹرمپ سنگاپور کے بعد دبئی عالمی کرپٹو انڈسٹری کی اگلی بڑی منزل بننے کو تیار

بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں: سینیٹر انوارالحق کاکڑ

Web Desk

11 August 2026

سابق وزیراعظم و سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے درپیش مسائل کا پائیدار حل کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی یا تشدد میں نہیں، بلکہ آئینی، سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی ذرائع کے مؤثر اور باقاعدہ استعمال میں مضمر ہے۔

آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت منعقدہ ایک خصوص نشست میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے ملک بھر کے 21 مختلف اسٹیشنز سے آن لائن و بالمشافہ جڑے 6 ہزار 150 سے زائد طلبہ و طالبات سے تفصیلی خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان کی تاریخ، علیحدگی پسندانہ بیانیے، قومی سلامتی، انسانی حقوق کی پاسداری اور بالخصوص ریاست کی بقا و ترقی میں نوجوانوں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل گفتگو کی۔

نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے سینیٹر کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں متحرک علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیمیوں کی سیاسی حکمتِ عملی کا اصل محور محض تشدد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “فتنہ الہندوستان” کے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور ان کے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرنا قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس کے بے گناہ مسافروں، موسیٰ خیل کے عام شہریوں اور تربت میں محنت کش مزدوروں پر ہونے والے بزدلانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انسانی حقوق اور بنیادی حقِ زندگی کی سنگین پامالی قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ دلیل، علم، ابلاغ اور فکری بصیرت کی طاقت سے ریاست مخالف بیانیوں کا مؤثر توڑ کریں۔