LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی ترقی اور خوشحالی پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہو رہی: عطا تارڑ آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 15 اور ایل اے 16 کے 23 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ یوکرین کا مگ-29 لڑاکا طیارہ گر کرتباہ عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ امریکا ایران کشیدگی کے حل کے لیے دنیا کی نظریں پاکستان، قطر اور عمان پر مرکوز شامی عدالت نے معزول صدر بشارالاسد کو سزائے موت سنادی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بحرین کا خیرمقدم کسٹمز بانڈڈ وئیر ہاؤسز میں کسی بھی بے ضابطگی کی گنجائش نہیں: وزیراعظم موجودہ الیکشن میں لوگوں کی رائے پر حکومتیں نہیں بنیں: حافظ نعیم الرحمٰن میٹرو بس سروس بندش کا خطرہ ٹل گیا، ویڈا اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں اتفاق وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کی ملاقات آئی ایم ایف پروگرام: پانچویں قسط کے حصول کے لئے تیاریاں شروع پاکستان کے 1100 سے زائد نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی کوئٹہ سے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس ایک روز کیلئے معطل رہبرِ انقلاب نے دشمن کے خلاف قومی اتحاد، یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا: ایرانی صدر

بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں: سینیٹر انوارالحق کاکڑ

Web Desk

11 August 2026

سابق وزیراعظم و سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے درپیش مسائل کا پائیدار حل کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی یا تشدد میں نہیں، بلکہ آئینی، سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی ذرائع کے مؤثر اور باقاعدہ استعمال میں مضمر ہے۔

آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت منعقدہ ایک خصوص نشست میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے ملک بھر کے 21 مختلف اسٹیشنز سے آن لائن و بالمشافہ جڑے 6 ہزار 150 سے زائد طلبہ و طالبات سے تفصیلی خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان کی تاریخ، علیحدگی پسندانہ بیانیے، قومی سلامتی، انسانی حقوق کی پاسداری اور بالخصوص ریاست کی بقا و ترقی میں نوجوانوں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل گفتگو کی۔

نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے سینیٹر کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں متحرک علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیمیوں کی سیاسی حکمتِ عملی کا اصل محور محض تشدد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “فتنہ الہندوستان” کے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور ان کے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرنا قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس کے بے گناہ مسافروں، موسیٰ خیل کے عام شہریوں اور تربت میں محنت کش مزدوروں پر ہونے والے بزدلانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انسانی حقوق اور بنیادی حقِ زندگی کی سنگین پامالی قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ دلیل، علم، ابلاغ اور فکری بصیرت کی طاقت سے ریاست مخالف بیانیوں کا مؤثر توڑ کریں۔