LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کا اسرائیل سمیت تمام فریقین سے لبنان میں بلاامتیاز کارروائیاں روکنے کا مطالبہ امریکا اقتصادی دباؤ سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا: ایرانی صدر باقر قالیباف کا ایران پر نئی امریکی پابندیاں مسترد کرنے پر چین سے اظہارِ تشکر یوکرین جنگ ہار رہا، محاذ کی صورتحال واضح ثبوت ہے: کریملن یوکرینی حملے میں مسافر بس نشانہ بن گئی، لڑکی سمیت 9 روسی ہلاک، 6 زخمی آزاد کشمیر حکومت سازی، بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام وزیراعظم کیلئے فائنل آبنائے ہرمز مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی سانحہ پمز پر حکمران طبقہ زیادہ دیر نہیں چھپ سکتا: حافظ نعیم الرحمان امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم سانحہ پمز: بچوں کی اموات آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، ابتدائی رپورٹ ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی مریم نواز کی سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سسٹم کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی

گورنر اسٹیٹ بینک کا کراچی چیمبر میں خطاب؛ زرمبادلہ ذخائر 3 ارب سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

Web Desk

15 May 2026

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے دورے کے موقع پر تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال کا تفصیلی نقشہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے تین سال قبل کے مقابلے میں موجودہ حالات کو نمایاں طور پر بہتر قرار دیتے ہوئے اہم معاشی اعشاریے جاری کیے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2023ء کے مقابلے میں 2026ء میں لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھلنے کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل ماہانہ درآمدات اوسطاً 3 ارب ڈالر تھیں جو اب بڑھ کر 5 ارب ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر چکی ہیں۔جمیل احمد نے اصلاحات کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:

  • پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تین سالوں میں 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

  • حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر (Remittances) میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے، جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

 گورنر کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور خام تیل کی قیمتوں جیسے بیرونی چیلنجز موجود ہیں، تاہم اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہے کہ مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 1 فیصد کے درمیان (جو کہ کم ترین سطح ہے) رہے گا۔بیرونی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً مستحکم رہا ہے۔

  • چار سال قبل مجموعی قرضہ 102 ارب ڈالر تھا جو مارچ 2026ء میں 103 ارب ڈالر ہے۔

  • اسٹیٹ بینک نے قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی کر دی ہے اور اب زیادہ انحصار ملٹی لیٹرل قرضوں پر ہے جن کی شرحِ سود کم ہوتی ہے