LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت مطالبات ماننے کو تیار نہیں، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمان یورپی یونین کا یوکرین کو 3.3 ارب یورو فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا اور یورپ کو قریبی اتحاد قائم کرنا چاہئے: وزیراعظم مارک کارنے کا مطالبہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، حزب اللہ کو بھی ختم کیا جائے گا: نیتن یاہو امریکا نے ایرانی رہنماؤں کو ویزے جاری کرنے کی منظوری دیدی چین کا ایران سے حوثیوں پر اثرو رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر امریکا کی سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی نگرانی سے متعلق امریکی قرارداد ویٹو کردی شہداء کی قربانیوں کو سلام، قوم کو وطن کے بہادر بیٹوں پر ناز ہے: محسن نقوی بوچا واقعات مغربی منصوبہ بندی سے کی گئی اشتعال انگیزی تھے، ماریہ زخارووا امریکی صدر کی ایک بار پھر ایران کو بڑے پیمانے پر حملے کی دھمکی وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے ایمان مزاری، ہادی چٹھہ کو اسلام آباد پولیس نے دوبارہ تحویل میں لے لیا پاکستانی طالبہ کی شائستہ روسی زبان نے سرگئی لاوروف کو متاثر کردیا

کھانے اضافی نمک ڈالنا کس خطرناک مسئلے سے تعلق رکھتا ہے؟

Web Desk

25 February 2026

چینی سائنس دانوں نے اپنی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ کھانوں میں بار بار اضافی نمک شامل کرنے کی عادت ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور اس سے ڈپریشن کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ سائنسی جریدے ‘نیوٹریشنل نیوروسائنس’ میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں 15 ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج کے مطابق زیادہ نمک استعمال کرنے والوں میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ 26 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔

گوانگ ڈونگ پروونشل پیپلز ہاسپٹل کے محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نمک اور ڈپریشن کے تعلق کی حتمی وجوہات پر مزید کام جاری ہے، تاہم ابتدائی شواہد بتاتے ہیں کہ نمک کی زیادتی جسم کے اسٹریس مینیجمنٹ سسٹم کو حد سے زیادہ متحرک کر دیتی ہے، جس سے اسٹریس ہارمونز کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، نمک کا زیادہ استعمال جسم اور دماغ میں سوزش (انفلیمیشن) پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو انسانی جذبات اور مزاج کو کنٹرول کرنے والے دماغی حصوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ذہنی و جسمانی توازن برقرار رکھنے کے لیے روزمرہ خوراک میں نمک کی مقدار کو کم رکھا جائے۔