کھانے اضافی نمک ڈالنا کس خطرناک مسئلے سے تعلق رکھتا ہے؟
Web Desk
25 February 2026
چینی سائنس دانوں نے اپنی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ کھانوں میں بار بار اضافی نمک شامل کرنے کی عادت ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور اس سے ڈپریشن کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ سائنسی جریدے ‘نیوٹریشنل نیوروسائنس’ میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں 15 ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج کے مطابق زیادہ نمک استعمال کرنے والوں میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا خطرہ 26 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔
گوانگ ڈونگ پروونشل پیپلز ہاسپٹل کے محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نمک اور ڈپریشن کے تعلق کی حتمی وجوہات پر مزید کام جاری ہے، تاہم ابتدائی شواہد بتاتے ہیں کہ نمک کی زیادتی جسم کے اسٹریس مینیجمنٹ سسٹم کو حد سے زیادہ متحرک کر دیتی ہے، جس سے اسٹریس ہارمونز کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، نمک کا زیادہ استعمال جسم اور دماغ میں سوزش (انفلیمیشن) پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو انسانی جذبات اور مزاج کو کنٹرول کرنے والے دماغی حصوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ذہنی و جسمانی توازن برقرار رکھنے کے لیے روزمرہ خوراک میں نمک کی مقدار کو کم رکھا جائے۔
متعلقہ عنوانات
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026