LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ

ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

Web Desk

16 September 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کا انعقاد 20 ستمبر کو ہونے جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے امتحانی شفافیت اور انتظامات سے متعلق اپنے تمام امور بروقت اور احسن طریقے سے مکمل کر لیے ہیں۔ اس سال کل 1 لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں شرکت کریں گے۔

امتحانی مراکزی کی تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے پاکستان بھر میں 34 امتحانی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبہ کی سہولت کے لیے ایک سینٹر ریاض میں بھی بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی آسان رسائی کے لیے اسلام آباد میں بھی خصوصی سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ پرچے کی شفافیت کے لیے 8 ہزار سوالات پر مشتمل ایک جدید ‘کوئسچن بنک’ تیار کیا گیا ہے۔

امتحانی نظم و ضبط کے حوالے سے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس امتحان سے متعلق صرف 6 معمولی شکایات موصول ہوئی تھیں اور تمام شکایت کنندگان کو مکمل طور پر مطمئن کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار امتحانی امور کی تمام تر عملی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومتوں کو سونپی گئی ہے، جس کے باعث اگر کہیں بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا اثر صرف اسی مخصوص صوبے تک ہی محدود رہے گا۔