LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

Web Desk

16 September 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کا انعقاد 20 ستمبر کو ہونے جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے امتحانی شفافیت اور انتظامات سے متعلق اپنے تمام امور بروقت اور احسن طریقے سے مکمل کر لیے ہیں۔ اس سال کل 1 لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں شرکت کریں گے۔

امتحانی مراکزی کی تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے پاکستان بھر میں 34 امتحانی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبہ کی سہولت کے لیے ایک سینٹر ریاض میں بھی بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی آسان رسائی کے لیے اسلام آباد میں بھی خصوصی سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ پرچے کی شفافیت کے لیے 8 ہزار سوالات پر مشتمل ایک جدید ‘کوئسچن بنک’ تیار کیا گیا ہے۔

امتحانی نظم و ضبط کے حوالے سے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس امتحان سے متعلق صرف 6 معمولی شکایات موصول ہوئی تھیں اور تمام شکایت کنندگان کو مکمل طور پر مطمئن کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار امتحانی امور کی تمام تر عملی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومتوں کو سونپی گئی ہے، جس کے باعث اگر کہیں بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا اثر صرف اسی مخصوص صوبے تک ہی محدود رہے گا۔