LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں: 17 دہشت گرد ہلاک، 9 جوان شہید، بھاری اسلحہ برآمد شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج: سویڈن کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی

Web Desk

17 September 2026

خیبر پختونخوا کے ‘صحت پروگرام’ کے تحت ڈلیوری کے کیسز میں سی سیکشن (آپریشن) کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر 47.43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہونے والے مجموعی سی سیکشنز میں سے 83.4 فیصد آپریشنز نجی ہسپتالوں میں کیے گئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طبی ضرورت کے بجائے صرف اور صرف مالی مفادات اور زیادہ سے زیادہ پرافٹ حاصل کرنے کے لیے نجی ہسپتالوں کی جانب سے نارمل ڈلیوری کے بجائے سی سیکشن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی فرق اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے؛ صحت پروگرام کے تحت سی سیکشن پیکیج کے لیے 26 ہزار 575 روپے مقرر ہیں جبکہ نارمل ڈلیوری پیکیج کے لیے صرف 15 ہزار 129 روپے دیے جاتے ہیں۔ مانیٹرنگ اور نگرانی کے مروجہ نظام کے فقدان نے اس غیر اخلاقی اور تجارتی رجحان کو مزید فروغ دیا ہے، جس سے صحت پروگرام کی شفافیت اور اصل مقاصد پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ماہرینِ صحت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ غیر ضروری سی سیکشن اور بار بار کے آپریشنز سے ماں اور بچے کی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور خواتین میں دائمی طبی پیچیدگیوں کے امکانی خطرات میں نپٹارہ اضافہ ہو رہا ہے۔