LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی

Web Desk

17 September 2026

خیبر پختونخوا کے ‘صحت پروگرام’ کے تحت ڈلیوری کے کیسز میں سی سیکشن (آپریشن) کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر 47.43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہونے والے مجموعی سی سیکشنز میں سے 83.4 فیصد آپریشنز نجی ہسپتالوں میں کیے گئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طبی ضرورت کے بجائے صرف اور صرف مالی مفادات اور زیادہ سے زیادہ پرافٹ حاصل کرنے کے لیے نجی ہسپتالوں کی جانب سے نارمل ڈلیوری کے بجائے سی سیکشن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی فرق اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے؛ صحت پروگرام کے تحت سی سیکشن پیکیج کے لیے 26 ہزار 575 روپے مقرر ہیں جبکہ نارمل ڈلیوری پیکیج کے لیے صرف 15 ہزار 129 روپے دیے جاتے ہیں۔ مانیٹرنگ اور نگرانی کے مروجہ نظام کے فقدان نے اس غیر اخلاقی اور تجارتی رجحان کو مزید فروغ دیا ہے، جس سے صحت پروگرام کی شفافیت اور اصل مقاصد پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ماہرینِ صحت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ غیر ضروری سی سیکشن اور بار بار کے آپریشنز سے ماں اور بچے کی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور خواتین میں دائمی طبی پیچیدگیوں کے امکانی خطرات میں نپٹارہ اضافہ ہو رہا ہے۔