LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی

وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت

Web Desk

16 September 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں فائر سیفٹی سسٹم اور انتظامی امور کو اگلے 3 ماہ میں مکمل طور پر بہتر بنانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت پمز ہسپتال کی بہتری اور وزارت قومی صحت کے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پمز کے پرفارمنس آڈٹ میں 90 فیصد کے درکار ہدف کے مقابلے میں صرف 39.7 فیصد کمپلائنس پائی گئی، جس پر وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں فوری طور پر 37 مجوزہ شارٹ ٹرم اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے پمز کے فائر سیفٹی نظام کی بحالی کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (PKLI) سے فنی معاونت لینے اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی تجاویز پر مکمل عملدرآمد کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ادویات اور طبی سہولیات کی مفت فراہمی یقینی بنائی جائے اور اچھی شہرت کی حامل پیشہ ورانہ افرادی قوت تعینات کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے پولی کلینک ہسپتال کا آڈٹ کر کے بے ضابطگیاں دور کرنے اور اس کی ازسرنو تنظیمِ نو کا لائحہ عمل بھی طلب کر لیا۔

وزیراعظم نے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کیے کہ اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں، دفاتر اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کا فوری آڈٹ کیا جائے اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، مصطفیٰ کمال، معاونِ خصوصی ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔