LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل ایران جنگ میں شدت: عالمی معیشت کیلئے ایک اور بڑا خطرہ پیدا، مہنگائی کے خدشات بڑھنے لگے ٹرمپ کا شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی پر اظہار مسرت ایران پر ایک اور حملے کیلئے تیار، نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی: صدر ٹرمپ ایران کے جوابی حملے: بحرین، اردن، یو اے ای، کویت میں امریکی اڈوں، ریڈار نظام کو نشانہ بنایا روس کا 24 گھنٹوں میں 1,330 یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت، 2 اہم علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ جرمنی کے روس مخالف اقدامات کا سخت جواب دیا جائے گا، روسی وزارت خارجہ پرامن جوہری توانائی میں روس، چین کا کلیدی شراکت دار ہے: صدر پوتن سینٹ کام نے سیرک میں ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی سختی سے تردید کر دی ایرانی بارڈر گارڈز نے سمگل شدہ ایندھن لے جانے والا بحری جہاز قبضے میں لے لیا ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ، ایک امریکی ڈالر 22 لاکھ ایرانی ریال کا ہو گیا ایران نے ابنائے ہرمز سے بغیر قواعد گزرنے والے مزید 11 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا کنگ چارلس سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ملاقات، محسن نقوی سے کرکٹ اور امن پر گفتگو ایران کی نئی حکمت عملی امریکی مفادات کی بنیادیں ہلا دے گی: محسن رضائی

وزیراعلیٰ پنجاب نے ”اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم“ پورٹل کا افتتاح کر دیا

Web Desk

23 April 2026


وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے اور زرعی ترقی کے لیے انقلابی منصوبے ”اپنا کھیت، اپنا روزگار سکیم“ کے پورٹل کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں بے زمین دیہاتیوں کو تقریباً 160 ارب روپے مالیت کی زرعی اراضی فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، اس سکیم کے تحت مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار ایکڑ سے زائد زمین فراہم کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں 13,812 زرعی لاٹس سے 88,780 خاندان، جبکہ چولستان میں 16,685 لاٹس سے 101,111 خاندان مستفید ہوں گے۔ ہر کامیاب امیدوار کو 25 سے 40 لاکھ روپے مالیت کی زمین 10 سالہ لیز پر دی جائے گی، جبکہ آبادکاری کے لیے 50 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک کی ون ٹائم گرانٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

سکیم کے قواعد و ضوابط کے تحت یہ اراضی صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکے گی اور وہاں کسی بھی قسم کی پختہ تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔ کاشتکاروں کی فنی رہنمائی کے لیے ہر لاٹ کے ساتھ ایگریکلچر افسر اور زرعی انٹرنی تعینات کیے جائیں گے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی سال میں دو بار زمینوں کا معائنہ کرے گی۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ اقدام دیہی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کاشتکاروں کو خود مختار بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔