LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان جنگِ ستمبر و مئی میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز

پمز ہسپتال میں اصلاحات کے لئے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم

Web Desk

7 September 2026

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے انتظامی اور آپریشنل امور میں بنیادی اصلاحات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق اس خصوصی کمیٹی میں سرکاری اور نجی شعبے کے نامور طبي ما ہرین اور قانون دان شامل کیے گئے ہیں۔ کمیٹی پمز ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے، طبی سہولیات اور ایمرجنسی پروٹوکولز کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی حتمی سفارشات اور اصلاحاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں ہسپتال کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز کو شفاف بنیادوں پر چلانے کے لیے ایک بااختیار بورڈ آف گورنرز (BOG) تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات کو شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ اقدامات پمز ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے این آئی سی یو (NICU) وارڈ میں 26 اگست کو آتشزدگی کے المناک سانحے کے بعد اٹھائے جا رہے ہیں، جس میں 14 نوزائیدہ بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس دلدوز واقعے کی تحقیقات کے بعد ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 سینئر افسران کو معطل کیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف ضابطہ اخلاق و فوجداری قوانین کے تحت باقاعدہ قانونی کارروائی جاری ہے۔