LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ کا ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین اور کویت میں سائرن بج گئے ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا: قالیباف وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی پر اظہار افسوس شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا ایران نے حالیہ امریکی حملوں کیخلاف اقوام متحدہ کو احتجاجی خطوط ارسال کر دیے ایران کا امریکی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان

ایران امریکہ جنگ: پاکستان کی جانب سے آئل کمپنیوں کو جی ڈی پی کے 0.1 فیصد کے برابر بھاری سبسڈی دینے کا انکشاف

Web Desk

20 May 2026

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو جی ڈی پی (GDP) کے 0.1 فیصد کے برابر بھاری سبسڈی فراہم کی تھی۔ آئی ایم ایف کے مطابق، کمپنیوں کو یہ عارضی سبسڈی 7 مارچ سے 3 اپریل تک یعنی ایک ماہ کے لیے دی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے بے پناہ اضافے کو روکنا اور عوام پر پڑنے والے اچانک بوجھ کو کم کرنا تھا۔ اس وقتی سبسڈی کے مالیاتی خسارے کو بعد میں حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے ایک متبادل پیکج کے ذریعے پورا کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، اس بحرانی صورتحال کے دوران پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق ڈھالنے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ردو بدل کا ایک نیا نظام بھی متعارف کرایا۔ اس کے باوجود، عالمی سطح پر تیل کے بحران کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 18 فیصد اور 55 فیصد کا ابتدائی اور بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آئی ایم ایف نے مزید بتایا کہ حکومت نے اس دوران ایندھن کی بچت اور ملکی ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے کئی ہنگامی و عارضی اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا۔ ان اقدامات کے تحت ملک بھر کے سرکاری اداروں کے لیے ہفتے میں صرف 4 دن کام کرنے کی پالیسی نافذ کی گئی، جبکہ سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کے 50 فیصد ملازمین کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ (گھر سے کام کرنے) کو لازمی قرار دیا گیا تھا تاکہ ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔