LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی

ایران امریکہ جنگ: پاکستان کی جانب سے آئل کمپنیوں کو جی ڈی پی کے 0.1 فیصد کے برابر بھاری سبسڈی دینے کا انکشاف

Web Desk

20 May 2026

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو جی ڈی پی (GDP) کے 0.1 فیصد کے برابر بھاری سبسڈی فراہم کی تھی۔ آئی ایم ایف کے مطابق، کمپنیوں کو یہ عارضی سبسڈی 7 مارچ سے 3 اپریل تک یعنی ایک ماہ کے لیے دی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے بے پناہ اضافے کو روکنا اور عوام پر پڑنے والے اچانک بوجھ کو کم کرنا تھا۔ اس وقتی سبسڈی کے مالیاتی خسارے کو بعد میں حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے ایک متبادل پیکج کے ذریعے پورا کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، اس بحرانی صورتحال کے دوران پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق ڈھالنے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ردو بدل کا ایک نیا نظام بھی متعارف کرایا۔ اس کے باوجود، عالمی سطح پر تیل کے بحران کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 18 فیصد اور 55 فیصد کا ابتدائی اور بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آئی ایم ایف نے مزید بتایا کہ حکومت نے اس دوران ایندھن کی بچت اور ملکی ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے کئی ہنگامی و عارضی اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا۔ ان اقدامات کے تحت ملک بھر کے سرکاری اداروں کے لیے ہفتے میں صرف 4 دن کام کرنے کی پالیسی نافذ کی گئی، جبکہ سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کے 50 فیصد ملازمین کے لیے ‘ورک فرام ہوم’ (گھر سے کام کرنے) کو لازمی قرار دیا گیا تھا تاکہ ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔