LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مزید جنگی جہاز نہ بھیجا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے: امریکی جنرل آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، بائیکاٹ کی تجاویز مسترد کر کے میدان میں رہیں گے: ندیم افضل چن ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید

رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے

Web Desk

17 April 2026

حالیہ سائنسی تحقیقات نے رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک حقائق سامنے لائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، وہ افراد جو رات کے اوقات میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، ان میں ذیابیطس، امراضِ قلب، کولیسٹرول کی زیادتی اور ہارمونز کے بگاڑ کے خطرات دن میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا ایک قدرتی حیاتیاتی نظام ہوتا ہے جسے ‘سرکیڈین ردھم’ (Circadian Rhythm) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام سونے جاگنے کے اوقات اور ہارمونز کے اخراج کو کنٹرول کرتا ہے۔ رات کو جاگنے اور دن کو سونے سے اس فطری نظام میں خلل پڑتا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، رات کی شفٹ میں کام کرنے والے 77 فیصد افراد ‘انسولین مزاحمت’ کا شکار پائے گئے، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجہ بنتی ہے، جبکہ دن میں کام کرنے والوں میں یہ شرح 62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

کولیسٹرول اور ہارمونز کے حوالے سے بھی ڈیٹا چونکا دینے والا ہے۔ رات کے کارکنوں میں نقصان دہ کولیسٹرول (ٹرائی گلیسرائیڈز) کی سطح زیادہ اور دل کے لیے مفید کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح کم دیکھی گئی۔ مزید برآں، مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون کی کمی اور خواتین میں ایسٹروجن کی غیر معمولی زیادتی جیسے ہارمونل مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔