LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے

Web Desk

17 April 2026

حالیہ سائنسی تحقیقات نے رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک حقائق سامنے لائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، وہ افراد جو رات کے اوقات میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، ان میں ذیابیطس، امراضِ قلب، کولیسٹرول کی زیادتی اور ہارمونز کے بگاڑ کے خطرات دن میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا ایک قدرتی حیاتیاتی نظام ہوتا ہے جسے ‘سرکیڈین ردھم’ (Circadian Rhythm) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام سونے جاگنے کے اوقات اور ہارمونز کے اخراج کو کنٹرول کرتا ہے۔ رات کو جاگنے اور دن کو سونے سے اس فطری نظام میں خلل پڑتا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، رات کی شفٹ میں کام کرنے والے 77 فیصد افراد ‘انسولین مزاحمت’ کا شکار پائے گئے، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجہ بنتی ہے، جبکہ دن میں کام کرنے والوں میں یہ شرح 62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

کولیسٹرول اور ہارمونز کے حوالے سے بھی ڈیٹا چونکا دینے والا ہے۔ رات کے کارکنوں میں نقصان دہ کولیسٹرول (ٹرائی گلیسرائیڈز) کی سطح زیادہ اور دل کے لیے مفید کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح کم دیکھی گئی۔ مزید برآں، مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون کی کمی اور خواتین میں ایسٹروجن کی غیر معمولی زیادتی جیسے ہارمونل مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔