LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان

غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار

Web Desk

2 August 2026

غزہ میں حماس کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کی پیشکش اور اسرائیلی افواج کے متوقع انخلا کے منصوبے نے اسرائیلی سیاست میں شدید دراڑیں ڈال دی ہیں۔ معاہدے کی مجوزہ شرائط کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بدلے اسرائیلی فوج کو مرحلہ وار انخلا کرنا ہوگا اور تمام انتظامی اختیارات ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کو سونپے جائیں گے، تاہم وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے اب تک اس پر کوئی باضابطہ حتمی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔

اسرائیل کے ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کا مکمل اور حقیقی طور پر خاتمہ و غیر مسلح ہونا یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک غزہ سے کسی قسم کا انخلا ممکن نہیں۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کو ایک ساتھ اپنی سیاسی بقا، دائیں بازو کے سخت گیر اتحادیوں کی حمایت برقرار رکھنے اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کا مشکل ترین چیلنج درپیش ہے۔