LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان سرکاری حج اسکیم 2027 کی درخواستوں کی وصولی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر، 5 اگست تک بارش کی پیشگوئی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی

ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی

Web Desk

2 August 2026

روس کے دارالحکومت ماسکو کے وسطی علاقے قدرنسکایا اسکوائر (Kudrinskaya Square) میں واقع ایک اطالوی ریستوران “بالزی روسی” (Balzi Rossi) کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں خاتون حملہ آور، سیکیورٹی گارڈ اور ایک گاہک سمیت 3 افراد ہلاک جبکہ 21 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں। روسی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کے مطابق، یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 8 بجے پیش آیا جب ایک نامعلوم خاتون نے اپنے پاس موجود دیسی ساختہ بم کے ساتھ ریستوران میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

ترجمان کے مطابق، ریستوران کے دروازے پر موجود سیکیورٹی گارڈ نے مشکوک خاتون کو اندر جانے سے روک دیا، جس پر دھماکہ خیز مواد باہر ہی پھٹ گیا۔ دھماکے سے ریستوران کے داخلی راستے کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ابھی تک حملہ آور کی مکمل شناخت، دھماکے کے اصل محرکات یا کسی گروہ کی جانب سے ذمہ داری کا دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے।