ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو
Web Desk
2 August 2026
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں “حکومت کی تبدیلی” (Regime Change) سے مراد لازمی طور پر تہران میں اقتدار کا مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ ایرانی حکومت کی نوعیت، کردار اور اس کے طرزِ عمل کی بنیادی تبدیلی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ ممکن ہے ہم مکمل نظام کو ختم نہ دیکھیں، لیکن ایرانی حکومت کا رویہ ہر صورت تبدیل ہونا ضروری ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے موقف اپنایا کہ ایرانی نظام کی پالیسیاں ہمیشہ سے توسیع پسندانہ اور خطے میں مداخلت پر مبنی رہی ہیں۔ ان کے بقول، تہران صرف اپنے ملک پر حکمرانی تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے، جسے بدلنے کے لیے تہران پر ایسا شدید دباؤ ڈالنا ہوگا جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔ روبیو کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدہ کرنا اور اس کی تصدیق کرنا آسان ہے، لیکن کسی حکومت کی علاقائی حکمت عملی اور رویے کو بدلنا ایک مسلسل عمل ہے، اسی لیے اس پر سے دباؤ ختم کرنے کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی جا سکتی۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 September 2026
اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان
22 September 2026
ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
22 September 2026
8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ
22 September 2026
عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور
22 September 2026
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ
22 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
22 September 2026