LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید سعودی ولی عہد کا ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کے امریکی منصوبے پر اظہار تشویش عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ

ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو

Web Desk

2 August 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں “حکومت کی تبدیلی” (Regime Change) سے مراد لازمی طور پر تہران میں اقتدار کا مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ ایرانی حکومت کی نوعیت، کردار اور اس کے طرزِ عمل کی بنیادی تبدیلی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ ممکن ہے ہم مکمل نظام کو ختم نہ دیکھیں، لیکن ایرانی حکومت کا رویہ ہر صورت تبدیل ہونا ضروری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے موقف اپنایا کہ ایرانی نظام کی پالیسیاں ہمیشہ سے توسیع پسندانہ اور خطے میں مداخلت پر مبنی رہی ہیں۔ ان کے بقول، تہران صرف اپنے ملک پر حکمرانی تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے، جسے بدلنے کے لیے تہران پر ایسا شدید دباؤ ڈالنا ہوگا جو اس کی برداشت سے باہر ہو۔ روبیو کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدہ کرنا اور اس کی تصدیق کرنا آسان ہے، لیکن کسی حکومت کی علاقائی حکمت عملی اور رویے کو بدلنا ایک مسلسل عمل ہے، اسی لیے اس پر سے دباؤ ختم کرنے کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی جا سکتی۔