LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز کا حنا جاوید قتل کیس پر اہم بیان سامنے آگیا لاہور میں شہری کے نام پر 2354 گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا حیران کن انکشاف افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کی ایس سی او اجلاس کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت آصفہ بھٹو کی یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر میں یومِ اقوامِ متحدہ کی تقریب میں شرکت فرانس میں مزدوروں کے اعلان کے بعد دوبارہ مظاہرے شروع، 135 گرفتار پی ٹی آئی میں اختلافات، بیرسٹر گوہر نے واضح ہدایات جاری کردیں پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کل پاکستان پہنچیں گی وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری

بھارتی فلم انڈسٹری میں مذاہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے، نصیر الدین شاہ کی کڑی تنقید

Web Desk

19 May 2026

ممبئی: معروف اور سینیئر بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے بالی ووڈ میں مذہب، شناخت اور اقلیتوں کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مواد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں بار بار مختلف مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے، جسے تفریح کے نام پر ایک مستقل رجحان کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بالی ووڈ نے اپنی فلموں کی کہانیوں میں صرف سنسنی پیدا کرنے اور تجارتی فائدے کے لیے مختلف مذہبی برادریوں کو اکثر نشانہ بنایا ہے، جس میں مختلف شناختوں کو انتہائی سطحی اور دقیانوسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

نصیر الدین شاہ نے انڈسٹری کے اس طرزِ عمل پر سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “آخر وہ کون سا مذہب ہے جس کا بالی ووڈ میں مذاق نہیں اڑایا گیا؟” انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سکھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کو اکثر فلموں میں محض مزاحیہ یا روایتی کرداروں تک محدود رکھا گیا، جبکہ مسلمان کرداروں کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا گیا۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو زیادہ تر ایک مخصوص سانچے میں ڈھال کر دکھایا جاتا ہے، جہاں وہ اکثر فلم کے آغاز میں ہیرو کا مخلص دوست بنتا ہے اور آخر میں اس کی جان بچاتے ہوئے اپنی قربانی دے دیتا ہے۔ انہوں نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ تفریح کے نام پر کسی بھی برادری کی دل آزاری اور غلط عکاسی سے گریز کریں۔