LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

بھارتی فلم انڈسٹری میں مذاہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے، نصیر الدین شاہ کی کڑی تنقید

Web Desk

19 May 2026

ممبئی: معروف اور سینیئر بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے بالی ووڈ میں مذہب، شناخت اور اقلیتوں کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مواد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں بار بار مختلف مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے، جسے تفریح کے نام پر ایک مستقل رجحان کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بالی ووڈ نے اپنی فلموں کی کہانیوں میں صرف سنسنی پیدا کرنے اور تجارتی فائدے کے لیے مختلف مذہبی برادریوں کو اکثر نشانہ بنایا ہے، جس میں مختلف شناختوں کو انتہائی سطحی اور دقیانوسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

نصیر الدین شاہ نے انڈسٹری کے اس طرزِ عمل پر سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “آخر وہ کون سا مذہب ہے جس کا بالی ووڈ میں مذاق نہیں اڑایا گیا؟” انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سکھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کو اکثر فلموں میں محض مزاحیہ یا روایتی کرداروں تک محدود رکھا گیا، جبکہ مسلمان کرداروں کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا گیا۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو زیادہ تر ایک مخصوص سانچے میں ڈھال کر دکھایا جاتا ہے، جہاں وہ اکثر فلم کے آغاز میں ہیرو کا مخلص دوست بنتا ہے اور آخر میں اس کی جان بچاتے ہوئے اپنی قربانی دے دیتا ہے۔ انہوں نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ تفریح کے نام پر کسی بھی برادری کی دل آزاری اور غلط عکاسی سے گریز کریں۔