LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز نے ورلڈ اربن فورم میں پنجاب پویلین کا افتتاح کردیا ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، دفاعی طاقت کی علامت ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی کینیا: پٹرول مہنگا کرنے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، 4 افراد ہلاک، 30 زخمی ایران امریکا جنگ کے باعث اپریل میں پاکستان کا خام تیل کا درآمدی بل تاریخی بلند ترین سطح پر بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی: فیلڈ مارشل ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون تمام شعبوں میں بڑھانا چاہتے ہیں: اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت جنوبی سوڈان میں پاکستانی امن دستے لاکھوں جانیں بچانے میں مصروف پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی معاشی استحکام کی جانب قدم: پاکستان کا قرضوں میں کمی کا فریم ورک آئی ایم ایف کو پیش قومی مشن کا دوسرا روز: ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم تیزی سے جاری امریکا نے بھارت کیلئے اپاچی ہیلی کاپٹر سپورٹ سروسز اور آلات کی منظوری دیدی

بھارتی فلم انڈسٹری میں مذاہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے، نصیر الدین شاہ کی کڑی تنقید

Web Desk

19 May 2026

ممبئی: معروف اور سینیئر بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے بالی ووڈ میں مذہب، شناخت اور اقلیتوں کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مواد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں بار بار مختلف مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے، جسے تفریح کے نام پر ایک مستقل رجحان کے طور پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بالی ووڈ نے اپنی فلموں کی کہانیوں میں صرف سنسنی پیدا کرنے اور تجارتی فائدے کے لیے مختلف مذہبی برادریوں کو اکثر نشانہ بنایا ہے، جس میں مختلف شناختوں کو انتہائی سطحی اور دقیانوسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

نصیر الدین شاہ نے انڈسٹری کے اس طرزِ عمل پر سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “آخر وہ کون سا مذہب ہے جس کا بالی ووڈ میں مذاق نہیں اڑایا گیا؟” انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سکھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کو اکثر فلموں میں محض مزاحیہ یا روایتی کرداروں تک محدود رکھا گیا، جبکہ مسلمان کرداروں کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا گیا۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو زیادہ تر ایک مخصوص سانچے میں ڈھال کر دکھایا جاتا ہے، جہاں وہ اکثر فلم کے آغاز میں ہیرو کا مخلص دوست بنتا ہے اور آخر میں اس کی جان بچاتے ہوئے اپنی قربانی دے دیتا ہے۔ انہوں نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ تفریح کے نام پر کسی بھی برادری کی دل آزاری اور غلط عکاسی سے گریز کریں۔