LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ

Web Desk

19 May 2026

ہوانا: کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینال نے امریکا کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کیوبا کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کے نتیجے میں شدید ’خونریزی‘ ہوگی اور پورے خطے کا امن و استحکام مستقل طور پر خطرے میں پڑ جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک سخت بیان میں کیوبن صدر نے واضح کیا کہ کیوبا دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے، تاہم اگر ان کی سرزمین پر حملہ کیا گیا تو کیوبا کے عوام دشمن کے خلاف بھرپور اور تاریخی مزاحمت کریں گے۔

کیوبن صدر کا یہ جارحانہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیوبا نے حال ہی میں 300 سے زائد جدید عسکری ڈرونز حاصل کیے ہیں اور وہ ان کے جارحانہ استعمال سے متعلق مختلف منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ان ڈرونز کے ممکنہ اہداف میں کیوبا میں قائم امریکی بحری اڈہ ‘گوانتانامو بے’ (Guantanamo Bay)، خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز اور امریکی ریاست فلوریڈا کا ساحلی علاقہ ‘کی ویسٹ’ (Key West) شامل ہو سکتے ہیں۔ کیوبا کی حکومت نے ان تمام امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک بار پھر ہوانا کے خلاف ممکنہ فوجی مداخلت کا من گھڑت جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب، دارالحکومت ہوانا کے عام شہریوں نے بھی امریکی دھمکیوں کے خلاف سخت ردعمل اور قومی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری شدید معاشی بحران اور ایندھن کی شدید قلت کے باوجود کیوبا اپنے دفاع اور قومی خودمختاری سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکا کی جانب سے وینزویلا سے کیوبا کو ہونے والی تیل کی فراہمی محدود کیے جانے کے بعد جزیرہ نما ملک اس وقت تاریخ کے بدترین توانائی بحران کا شکار ہے۔ ملک بھر میں ایندھن کی قلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کئی علاقوں میں روزانہ صرف ایک سے دو گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور کیوبا کے مابین تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ ڈرون تنازع نے دونوں روایتی حریفوں کے درمیان جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔