LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، دفاعی طاقت کی علامت ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی کینیا: پٹرول مہنگا کرنے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، 4 افراد ہلاک، 30 زخمی ایران امریکا جنگ کے باعث اپریل میں پاکستان کا خام تیل کا درآمدی بل تاریخی بلند ترین سطح پر بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی: فیلڈ مارشل ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون تمام شعبوں میں بڑھانا چاہتے ہیں: اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت جنوبی سوڈان میں پاکستانی امن دستے لاکھوں جانیں بچانے میں مصروف پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی معاشی استحکام کی جانب قدم: پاکستان کا قرضوں میں کمی کا فریم ورک آئی ایم ایف کو پیش قومی مشن کا دوسرا روز: ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم تیزی سے جاری امریکا نے بھارت کیلئے اپاچی ہیلی کاپٹر سپورٹ سروسز اور آلات کی منظوری دیدی مہنگائی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپوزیشن گرینڈ الائنس کا جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ

Web Desk

19 May 2026

ہوانا: کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینال نے امریکا کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کیوبا کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کے نتیجے میں شدید ’خونریزی‘ ہوگی اور پورے خطے کا امن و استحکام مستقل طور پر خطرے میں پڑ جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک سخت بیان میں کیوبن صدر نے واضح کیا کہ کیوبا دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے، تاہم اگر ان کی سرزمین پر حملہ کیا گیا تو کیوبا کے عوام دشمن کے خلاف بھرپور اور تاریخی مزاحمت کریں گے۔

کیوبن صدر کا یہ جارحانہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیوبا نے حال ہی میں 300 سے زائد جدید عسکری ڈرونز حاصل کیے ہیں اور وہ ان کے جارحانہ استعمال سے متعلق مختلف منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ان ڈرونز کے ممکنہ اہداف میں کیوبا میں قائم امریکی بحری اڈہ ‘گوانتانامو بے’ (Guantanamo Bay)، خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز اور امریکی ریاست فلوریڈا کا ساحلی علاقہ ‘کی ویسٹ’ (Key West) شامل ہو سکتے ہیں۔ کیوبا کی حکومت نے ان تمام امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک بار پھر ہوانا کے خلاف ممکنہ فوجی مداخلت کا من گھڑت جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب، دارالحکومت ہوانا کے عام شہریوں نے بھی امریکی دھمکیوں کے خلاف سخت ردعمل اور قومی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری شدید معاشی بحران اور ایندھن کی شدید قلت کے باوجود کیوبا اپنے دفاع اور قومی خودمختاری سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکا کی جانب سے وینزویلا سے کیوبا کو ہونے والی تیل کی فراہمی محدود کیے جانے کے بعد جزیرہ نما ملک اس وقت تاریخ کے بدترین توانائی بحران کا شکار ہے۔ ملک بھر میں ایندھن کی قلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کئی علاقوں میں روزانہ صرف ایک سے دو گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور کیوبا کے مابین تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ ڈرون تنازع نے دونوں روایتی حریفوں کے درمیان جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔