LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ

Web Desk

19 May 2026

ہوانا: کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینال نے امریکا کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کیوبا کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کے نتیجے میں شدید ’خونریزی‘ ہوگی اور پورے خطے کا امن و استحکام مستقل طور پر خطرے میں پڑ جائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک سخت بیان میں کیوبن صدر نے واضح کیا کہ کیوبا دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے، تاہم اگر ان کی سرزمین پر حملہ کیا گیا تو کیوبا کے عوام دشمن کے خلاف بھرپور اور تاریخی مزاحمت کریں گے۔

کیوبن صدر کا یہ جارحانہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیوبا نے حال ہی میں 300 سے زائد جدید عسکری ڈرونز حاصل کیے ہیں اور وہ ان کے جارحانہ استعمال سے متعلق مختلف منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ان ڈرونز کے ممکنہ اہداف میں کیوبا میں قائم امریکی بحری اڈہ ‘گوانتانامو بے’ (Guantanamo Bay)، خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز اور امریکی ریاست فلوریڈا کا ساحلی علاقہ ‘کی ویسٹ’ (Key West) شامل ہو سکتے ہیں۔ کیوبا کی حکومت نے ان تمام امریکی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک بار پھر ہوانا کے خلاف ممکنہ فوجی مداخلت کا من گھڑت جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب، دارالحکومت ہوانا کے عام شہریوں نے بھی امریکی دھمکیوں کے خلاف سخت ردعمل اور قومی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری شدید معاشی بحران اور ایندھن کی شدید قلت کے باوجود کیوبا اپنے دفاع اور قومی خودمختاری سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکا کی جانب سے وینزویلا سے کیوبا کو ہونے والی تیل کی فراہمی محدود کیے جانے کے بعد جزیرہ نما ملک اس وقت تاریخ کے بدترین توانائی بحران کا شکار ہے۔ ملک بھر میں ایندھن کی قلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کئی علاقوں میں روزانہ صرف ایک سے دو گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور کیوبا کے مابین تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ ڈرون تنازع نے دونوں روایتی حریفوں کے درمیان جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔