LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

امریکا نے بھارت کیلئے اپاچی ہیلی کاپٹر سپورٹ سروسز اور آلات کی منظوری دیدی

Web Desk

19 May 2026

واشنگٹن: امریکا نے بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اپاچی ہیلی کاپٹروں کی سپورٹ سروسز اور متعلقہ آلات کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے، جس کی کل مالیت 19 کروڑ 82 لاکھ ڈالر ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس اہم دفاعی معاہدے کے تحت بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کمپنیاں مرکزی کنٹریکٹرز کے طور پر خدمات سرانجام دیں گی، جبکہ فراہم کی جانے والی سپورٹ سروسز میں پائلٹس اور عملے کی ٹریننگ، سپیئر پارٹس اور دیگر ضروری تکنیکی معاونت شامل ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارتی فضائیہ اور فوج کے پاس اس وقت 28 اپاچی ہیلی کاپٹر موجود ہیں جن کی جنگی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے یہ معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ مزید برآں، امریکا نے بھارت کے لیے 23 کروڑ ڈالر مالیت کی الٹرا لائٹ ہووٹزر (توبخانوں) کی سپورٹ سروسز کی بھی منظوری دی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اور عسکری تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔