LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق 5 اگست 2019 ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حافظ نعیم اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے کوئی طاقت کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت ختم نہیں کر سکتی، مشعال ملک امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کا پورا ذخیرہ استعمال کر لیا 5اگست2019، کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ باب آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ دبئی کے مشہور ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ تین شہروں میں غیر ملکی صحافیوں کو آؤٹ ڈور کوریج کے لیے این او سی لازمی قرار امریکی محکمہ دادگستری کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم, 10افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام صدر ٹرمپ کی فنڈ ریزنگ تقریب سے چند گھنٹے قبل گالف کلب سے مسلح شخص گرفتار روس نے کیف کے متعدد علاقوں پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے، ہنگامی صورتحال پیدا

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا

Web Desk

18 May 2026

اسلام آباد میں اپنے گھر میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں اور صحتِ جرم سے انکار کیا ہے، جس کے بعد کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی، جہاں ملزم کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلمبند کیا گیا۔

سماعت کے دوران ملزم نے ابتدائی طور پر وکیل کی عدم موجودگی میں جواب دینے سے انکار کیا تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ بیان براہِ راست جج اور ملزم کے درمیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

عدالت کی جانب سے ملزم سے قتل، موبائل کی چوری، کرائے کی گاڑی، لوکیشن، شناخت پریڈ اور مبینہ اعترافِ جرم سے متعلق سوالات کیے گئے جن پر اس نے تمام الزامات کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا۔

ملزم نے کہا کہ اس نے ثنا یوسف کے قتل کا کوئی اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی اس کا مقتولہ سے کوئی رابطہ تھا۔

عدالت میں جج نے سوال کیا کہ تفتیش کے دوران ثنا یوسف کے فون سے “کاکا” نام سے منسلک نمبر سامنے آیا اور فرانزک کے بعد وہ نمبر آپ کا نکلا، جس پر ملزم نے وکیل کے بغیر جواب دینے سے انکار کیا۔

مزید سوالات میں جج نے پوچھا کہ کیا وہ قتل کے لیے گھر گیا، فائرنگ کی اور موبائل لے کر فرار ہوا؟ اس پر ملزم نے مؤقف اپنایا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور پولیس نے تشدد کے ذریعے اعتراف حاصل کرنے کی کوشش کی۔

سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں ویڈیو بنانے پر بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر فیصلہ محفوظ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں اسلام آباد میں ثنا یوسف کو ان کے گھر پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، اور ملزم کو بعد ازاں فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔