LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا

Web Desk

18 May 2026

اسلام آباد میں اپنے گھر میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں اور صحتِ جرم سے انکار کیا ہے، جس کے بعد کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی، جہاں ملزم کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلمبند کیا گیا۔

سماعت کے دوران ملزم نے ابتدائی طور پر وکیل کی عدم موجودگی میں جواب دینے سے انکار کیا تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ بیان براہِ راست جج اور ملزم کے درمیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

عدالت کی جانب سے ملزم سے قتل، موبائل کی چوری، کرائے کی گاڑی، لوکیشن، شناخت پریڈ اور مبینہ اعترافِ جرم سے متعلق سوالات کیے گئے جن پر اس نے تمام الزامات کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا۔

ملزم نے کہا کہ اس نے ثنا یوسف کے قتل کا کوئی اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی اس کا مقتولہ سے کوئی رابطہ تھا۔

عدالت میں جج نے سوال کیا کہ تفتیش کے دوران ثنا یوسف کے فون سے “کاکا” نام سے منسلک نمبر سامنے آیا اور فرانزک کے بعد وہ نمبر آپ کا نکلا، جس پر ملزم نے وکیل کے بغیر جواب دینے سے انکار کیا۔

مزید سوالات میں جج نے پوچھا کہ کیا وہ قتل کے لیے گھر گیا، فائرنگ کی اور موبائل لے کر فرار ہوا؟ اس پر ملزم نے مؤقف اپنایا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور پولیس نے تشدد کے ذریعے اعتراف حاصل کرنے کی کوشش کی۔

سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں ویڈیو بنانے پر بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر فیصلہ محفوظ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں اسلام آباد میں ثنا یوسف کو ان کے گھر پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، اور ملزم کو بعد ازاں فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔