LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، دفاعی طاقت کی علامت ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی کینیا: پٹرول مہنگا کرنے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، 4 افراد ہلاک، 30 زخمی ایران امریکا جنگ کے باعث اپریل میں پاکستان کا خام تیل کا درآمدی بل تاریخی بلند ترین سطح پر بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی: فیلڈ مارشل ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون تمام شعبوں میں بڑھانا چاہتے ہیں: اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت جنوبی سوڈان میں پاکستانی امن دستے لاکھوں جانیں بچانے میں مصروف پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی معاشی استحکام کی جانب قدم: پاکستان کا قرضوں میں کمی کا فریم ورک آئی ایم ایف کو پیش قومی مشن کا دوسرا روز: ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم تیزی سے جاری امریکا نے بھارت کیلئے اپاچی ہیلی کاپٹر سپورٹ سروسز اور آلات کی منظوری دیدی مہنگائی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپوزیشن گرینڈ الائنس کا جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

معاشی استحکام کی جانب قدم: پاکستان کا قرضوں میں کمی کا فریم ورک آئی ایم ایف کو پیش

Web Desk

19 May 2026

اسلام آباد: پاکستان نے ملک پر واجب الادا سرکاری قرضوں کے بوجھ کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان نے اس پلان کے تحت اگلے سال تک اپنے قرضوں کو جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کے 67.4 فیصد پر لانے کا ہدف طے کیا ہے۔ طویل مدتی منصوبے کے تحت یہ قرضے 2028 میں 64.7 فیصد، 2029 میں 61.6 فیصد، اور 2033 میں 56.8 فیصد تک کم کیے جائیں گے، جبکہ فریم ورک کا حتمی ہدف سال 2034 تک قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو 55.7 فیصد کی سطح پر لانا ہے۔

دوسری جانب، آئی ایم ایف نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے اخراجات پر سخت کنٹرول نہ کیا تو قرضوں کا یہ بوجھ کم نہیں ہو سکے گا۔ فنڈ نے انتباہ کیا ہے کہ ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کے بغیر قرضوں میں کمی کا یہ پورا فریم ورک خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنا ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا، سرکاری اداروں (SOEs) کے نقصانات میں کمی لانی ہوگی، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو کنٹرول کرنا ہوگا اور بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو مستحکم بنانا ہوگا۔