ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی
Web Desk
19 May 2026
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے ہائی پروفائل قتل کے مقدمے کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد کچھ دیر محفوظ رہنے والا یہ اہم فیصلہ سنایا۔
دورانِ سماعت عدالت میں مقتولہ اور ملزم کے درمیان ہونے والی کالز کا ریکارڈ اور چیٹ کے اسکرین شاٹس بطور ثبوت پیش کیے گئے۔ مدعی کے وکیل نے جرم کی سنگینی کو برقرار رکھتے ہوئے مجرم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔ دوسری جانب، ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل عمر حیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے دو درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اب بھی زیرِ التوا ہیں، لہٰذا پہلے سے ذہن بنا کر سزائے موت سنانا زیادتی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے صاف انکار کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے ثنا کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا انکشاف نہیں کیا اور نہ ہی اس کا مقتولہ سے کوئی رابطہ تھا۔ اس پر معزز جج نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش ثنا یوسف کے فون سے ‘کاکا’ کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، جو موبائل فارنزک کے بعد آپ کا ہی نکلا، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ تاہم ملزم عمر حیات اس کا کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکا اور کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر اس پر بات نہیں کر سکتا۔
کیس کا پس منظر اور ٹرائل کی تفصیلات:
سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کو 2 جون 2025ء کو ان کے گھر میں بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کے اگلے ہی روز یعنی 3 جون کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ قاتل عمر حیات کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا، جو وہیں کا رہائشی ہے۔ بعدازاں 13 جون کو ہونے والی شناخت پریڈ کے دوران مقدمے کے چشم دید گواہان نے ملزم کو شناخت کر لیا۔ مقتولہ کی حقیقی والدہ اور پھوپھی اس کیس میں مرکزی چشم دید گواہ ہیں۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس حساس کیس کی پیروی کے لیے راجہ نوید حسین کیانی کو اسپیشل پراسکیوٹر تعینات کیا گیا تھا۔ اس ہائی پروفائل مقدمے میں مجموعی طور پر 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ پولیس چالان میں کل 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی تھی، جس میں سے بعد میں پراسکیوشن نے 4 گواہان کو ترک کر دیا اور مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ ملزم پر فردِ جرم 20 ستمبر کو عائد کی گئی تھی جبکہ استغاثہ کے پہلے گواہ کا بیان 25 ستمبر کو قلمبند ہوا۔ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ٹرائل کا عمل 2 ہفتے سے زائد وقت کے لیے رکا بھی رہا تھا، تاہم اب سیشن کورٹ نے تمام شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر مجرم کو عبرتناک سزا سنا دی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ملک میں سیاسی اتفاقِ رائے کے لیے قیدی لیڈر سے بات چیت ضروری: فواد چوہدری و عمران اسماعیل
5 August 2026
مریم نواز سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
5 August 2026
5 اگست 2019 ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حافظ نعیم
5 August 2026
اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع
5 August 2026
گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی کا کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
5 August 2026
اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے
5 August 2026
کوئی طاقت کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت ختم نہیں کر سکتی، مشعال ملک
5 August 2026
پاکستان کشمیریوں کی شناخت پر حملہ کبھی تسلیم نہیں کرے گا، مریم نواز
5 August 2026