LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

طوفانی بارشیں، بادل پھٹنے سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، لینڈسلائیڈنگ سے 4 مزدور جاں بحق

Web Desk

20 July 2026

ملک بھر میں جاری مون سون کی طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور تباہ کن سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ خیبر، مانسہرہ، وادی نیلم، لیہ، حسن ابدال اور نگر سمیت مختلف علاقوں میں شدید نقصان کی اطلاعات ہیں۔ ضلع نگر کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ سے 4 مزدور جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے، جبکہ خیبر میں گاڑیوں کے سیلابی ریلے میں بہنے سے 3 افراد لاپتہ ہو گئے۔ وادی نیلم اور مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں کلاؤڈ برسٹ سے متعدد مکانات، ہوٹل، دکانیں اور گاڑیاں بہہ گئیں اور مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک معطل ہو گئی۔ لیہ میں دریائے سندھ کے کٹاؤ کے باعث 2 سرکاری اسکول، 3 مساجد اور 300 سے زائد مکانات دریا برد ہو گئے، جبکہ ہیڈ قادر آباد کے مقام پر دریائے چناب میں 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک کی آمد سے نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے وادی کاغان اور کنہار کے حساس علاقوں میں سیاحوں اور مقامی آبادی کو آبی گزرگاہوں سے دور رہنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔