LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل شہزادہ ہیری کا رواں ماہ فیملی سمیت امریکا سے برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو باقر قالیباف کی عراقی وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر امریکی پابندیاں، انتونیو گوتریس کا اظہار تشویش ترکیہ کو شام میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیتن یاہو اسرائیلی فوج کی پہلی بار ہند رجب کے خاندان پر فائرنگ کی تصدیق موساد سربراہ کا شامی وزیر خارجہ سے رابطہ، شام میں ترک فوج کی موجودگی پر گفتگو روس میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا، درآمدات شروع حکومت کا ڈیزل کی قیمت میں بڑا ریلیف، پٹرول مزید مہنگا کر دیا

حکومت کا ملکی پرائیویٹ ایکویٹی نظام مضبوط بنانے، طویل مدتی سرمایہ کاری کے فروغ کا فیصلہ

Web Desk

20 August 2026

وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لیے قائم کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران ملکی پرائیویٹ ایکویٹی نظام کو مضبوط بنانے اور پائیدار معاشی نمو کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک نجی شعبے کی قیادت میں تیار کیا جائے گا، جبکہ حکومت کا کردار براہِ راست فنڈنگ کے بجائے صرف سازگار ماحول اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کی فراہمی تک محدود رہے گا۔ اجلاس میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شمولیت، ٹیکس اور پالیسی رکاوٹوں کے خاتمے، اور انضمام و نجکاری میں پرائیویٹ ایکویٹی کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ پالیسی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لیے ٹیکسیشن، ریگولیٹری فریم ورک، کاروباری حکمتِ عملی اور قابلِ عمل منصوبوں پر مشتمل چار ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے ہیں، جن کی تیار کردہ سفارشات حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔