LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل شہزادہ ہیری کا رواں ماہ فیملی سمیت امریکا سے برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو باقر قالیباف کی عراقی وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر امریکی پابندیاں، انتونیو گوتریس کا اظہار تشویش ترکیہ کو شام میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیتن یاہو اسرائیلی فوج کی پہلی بار ہند رجب کے خاندان پر فائرنگ کی تصدیق موساد سربراہ کا شامی وزیر خارجہ سے رابطہ، شام میں ترک فوج کی موجودگی پر گفتگو

عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر امریکی پابندیاں، انتونیو گوتریس کا اظہار تشویش

Web Desk

20 August 2026

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی فوجداری عدالت کے اعلیٰ عہدیداروں پر امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کے مطابق سیکرٹری جنرل نے آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے اور عدالت کے سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے پر امریکی پابندیوں کو عالمی انصاف کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ عالمی فوجداری عدالت کو بین الاقوامی فوجداری انصاف اور قانون کی حکمرانی کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے اور اس کے تمام اقدامات و خودمختاری کا مکمل احترام کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 18 اگست کو آئی سی سی کے ان اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر واشنگٹن کا موقف ہے کہ آئی سی سی نے ان ممالک کے حکام کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش کی جنہوں نے اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔ اس امریکی فیصلے کی عالمی فوجداری عدالت اور جاپان سمیت متعدد ممالک نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عدالت کی آزادی اور عالمی قوانین کے خلاف ورزی قرار دیا ہے۔