LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں

دنیا بھر میں چکن گونیا کے لاکھوں کیسز رپورٹ، 186 افراد ہلاک

Web Desk

31 December 2025

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر تک دنیا بھر میں چکن گونیا کے 5 لاکھ 2 ہزار 264 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ اس وائرس سے 186 اموات بھی سامنے آئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی سطح پر چکن گونیا کے پھیلاؤ کا خطرہ درمیانہ درجے پر ہے، تاہم 2025 کے سیزن کے دوران کئی خطوں میں بڑے پیمانے پر کیسز سامنے آنے کے باعث صورتحال تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے علاقوں میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ماضی میں یہ بیماری نہ ہونے کے برابر تھی۔

ادارے کے مطابق نئے جغرافیائی علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں ایڈیز مچھر کی موجودگی، آبادی میں قوتِ مدافعت کی کمی، سازگار موسمی حالات اور انسانی نقل و حرکت میں اضافہ شامل ہیں۔

چکن گونیا زیادہ تر گرم اور نیم گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اچانک بخار، شدید جوڑوں اور پٹھوں کا درد، سر درد اور جلد پر خارش شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں جوڑوں کا درد مہینوں甚至 سالوں تک برقرار رہ سکتا ہے، جس سے طویل مدتی معذوری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق مجموعی کیسز کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  • 2 لاکھ 8 ہزار 335 تصدیق شدہ کیسز

  • 2 لاکھ 9 ہزار 929 مشتبہ کیسز
    یہ کیسز 41 ممالک اور علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

علاقائی اعتبار سے صورتحال درج ذیل ہے:

  • امریکہ: 2 لاکھ 91 ہزار 451 کیسز، 141 اموات

  • جنوب مشرقی ایشیا: 1 لاکھ 15 ہزار 985 کیسز، کوئی موت رپورٹ نہیں

  • یورپ: 56 ہزار 986 کیسز، 43 اموات

  • مغربی پیسفک: 34 ہزار 35 کیسز، 2 اموات

  • افریقہ: 2 ہزار 211 کیسز

  • مشرق وسطیٰ: 1 ہزار 596 کیسز

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خطے میں برازیل سب سے زیادہ متاثرہ ملک رہا، جہاں 2 لاکھ 43 ہزار 915 کیسز اور 116 اموات رپورٹ ہوئیں، جو خطے کے کل کیسز کا 84 فیصد بنتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ چکن گونیا کی شرح اموات دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے مقابلے میں کم ہے، تاہم نوزائیدہ بچوں، حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور ذیابیطس، بلڈ پریشر یا دل کے مریضوں میں شدید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔