LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

دنیا بھر میں چکن گونیا کے لاکھوں کیسز رپورٹ، 186 افراد ہلاک

Web Desk

31 December 2025

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر تک دنیا بھر میں چکن گونیا کے 5 لاکھ 2 ہزار 264 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ اس وائرس سے 186 اموات بھی سامنے آئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی سطح پر چکن گونیا کے پھیلاؤ کا خطرہ درمیانہ درجے پر ہے، تاہم 2025 کے سیزن کے دوران کئی خطوں میں بڑے پیمانے پر کیسز سامنے آنے کے باعث صورتحال تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے علاقوں میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ماضی میں یہ بیماری نہ ہونے کے برابر تھی۔

ادارے کے مطابق نئے جغرافیائی علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں ایڈیز مچھر کی موجودگی، آبادی میں قوتِ مدافعت کی کمی، سازگار موسمی حالات اور انسانی نقل و حرکت میں اضافہ شامل ہیں۔

چکن گونیا زیادہ تر گرم اور نیم گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اچانک بخار، شدید جوڑوں اور پٹھوں کا درد، سر درد اور جلد پر خارش شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں جوڑوں کا درد مہینوں甚至 سالوں تک برقرار رہ سکتا ہے، جس سے طویل مدتی معذوری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق مجموعی کیسز کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  • 2 لاکھ 8 ہزار 335 تصدیق شدہ کیسز

  • 2 لاکھ 9 ہزار 929 مشتبہ کیسز
    یہ کیسز 41 ممالک اور علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

علاقائی اعتبار سے صورتحال درج ذیل ہے:

  • امریکہ: 2 لاکھ 91 ہزار 451 کیسز، 141 اموات

  • جنوب مشرقی ایشیا: 1 لاکھ 15 ہزار 985 کیسز، کوئی موت رپورٹ نہیں

  • یورپ: 56 ہزار 986 کیسز، 43 اموات

  • مغربی پیسفک: 34 ہزار 35 کیسز، 2 اموات

  • افریقہ: 2 ہزار 211 کیسز

  • مشرق وسطیٰ: 1 ہزار 596 کیسز

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خطے میں برازیل سب سے زیادہ متاثرہ ملک رہا، جہاں 2 لاکھ 43 ہزار 915 کیسز اور 116 اموات رپورٹ ہوئیں، جو خطے کے کل کیسز کا 84 فیصد بنتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ چکن گونیا کی شرح اموات دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے مقابلے میں کم ہے، تاہم نوزائیدہ بچوں، حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور ذیابیطس، بلڈ پریشر یا دل کے مریضوں میں شدید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔