دنیا بھر میں چکن گونیا کے لاکھوں کیسز رپورٹ، 186 افراد ہلاک
Web Desk
31 December 2025
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر تک دنیا بھر میں چکن گونیا کے 5 لاکھ 2 ہزار 264 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ اس وائرس سے 186 اموات بھی سامنے آئی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی سطح پر چکن گونیا کے پھیلاؤ کا خطرہ درمیانہ درجے پر ہے، تاہم 2025 کے سیزن کے دوران کئی خطوں میں بڑے پیمانے پر کیسز سامنے آنے کے باعث صورتحال تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے علاقوں میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ماضی میں یہ بیماری نہ ہونے کے برابر تھی۔
ادارے کے مطابق نئے جغرافیائی علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں ایڈیز مچھر کی موجودگی، آبادی میں قوتِ مدافعت کی کمی، سازگار موسمی حالات اور انسانی نقل و حرکت میں اضافہ شامل ہیں۔
چکن گونیا زیادہ تر گرم اور نیم گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اچانک بخار، شدید جوڑوں اور پٹھوں کا درد، سر درد اور جلد پر خارش شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں جوڑوں کا درد مہینوں甚至 سالوں تک برقرار رہ سکتا ہے، جس سے طویل مدتی معذوری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق مجموعی کیسز کی تفصیل کچھ یوں ہے:
-
2 لاکھ 8 ہزار 335 تصدیق شدہ کیسز
-
2 لاکھ 9 ہزار 929 مشتبہ کیسز
یہ کیسز 41 ممالک اور علاقوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
علاقائی اعتبار سے صورتحال درج ذیل ہے:
-
امریکہ: 2 لاکھ 91 ہزار 451 کیسز، 141 اموات
-
جنوب مشرقی ایشیا: 1 لاکھ 15 ہزار 985 کیسز، کوئی موت رپورٹ نہیں
-
یورپ: 56 ہزار 986 کیسز، 43 اموات
-
مغربی پیسفک: 34 ہزار 35 کیسز، 2 اموات
-
افریقہ: 2 ہزار 211 کیسز
-
مشرق وسطیٰ: 1 ہزار 596 کیسز
رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خطے میں برازیل سب سے زیادہ متاثرہ ملک رہا، جہاں 2 لاکھ 43 ہزار 915 کیسز اور 116 اموات رپورٹ ہوئیں، جو خطے کے کل کیسز کا 84 فیصد بنتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ چکن گونیا کی شرح اموات دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کے مقابلے میں کم ہے، تاہم نوزائیدہ بچوں، حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور ذیابیطس، بلڈ پریشر یا دل کے مریضوں میں شدید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایف آئی اے کی بڑی کارروائی؛ غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری سیل، جعلی ادویہ برآمد
1 August 2026
ہسپتال بنانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، وفاق اپنی ڈسپنسریاں اپ گریڈ کر سکتا ہے: مصطفیٰ کمال
1 August 2026
پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
31 July 2026
مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ملک کے جنوبی علاقوں میں ڈینگی وائرس پھیلنے کا امکان: ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔وفاقی وزیر صحت
31 July 2026
مون سون میں فالج کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں
30 July 2026
امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان
30 July 2026