LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

سائنس دانوں نے نئی قسم کی اسٹوریج ایجاد کرلی

Web Desk

19 February 2026

مائیکروسافٹ کے محققین نے ’پروجیکٹ سِلیکا‘ (Project Silica) نامی ایک جدید منصوبے کے تحت شیشے کو ڈیٹا اسٹوریج کے طور پر استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی معلومات کو انکوڈ کرنے کے لیے لیزر سے تیار کردہ خاص شیشہ استعمال کرتی ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیٹا کو 10 ہزار برس سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ سکے گی۔

موجودہ چیلنج اور شیشے کا انتخاب
آج کے ڈیجیٹل دور میں ہم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ڈیٹا کی بہت بڑی مقدار پیدا کر رہے ہیں۔ تاہم:

ہارڈ ڈسک کی محدود زندگی: کمپیوٹر میں استعمال ہونے والی ہارڈ ڈرائیوز یا مقناطیسی ٹیپس چند سالوں یا دہائیوں میں خراب ہو جاتی ہیں، جس سے اہم معلومات کے ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

شیشے کی پائیداری: شیشہ ایک ایسا مٹیریل ہے جو آگ، پانی اور وقت کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اسے ڈیٹا اسٹوریج کے لیے استعمال کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ حقیقت بن چکا ہے۔

ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
اس منصوبے میں ڈیٹا کو شیشے کے اندر محفوظ کرنے کے لیے ایک خاص طریقہ کار اپنایا گیا ہے:

لیزر انکوڈنگ: ایک انتہائی تیز رفتار (Femtosecond) لیزر کے ذریعے شیشے کے اندر خوردبینی نشانات بنائے جاتے ہیں۔

ووکسلز (Voxels): یہ لیزر شیشے پر تھری ڈائمنشنل پکسلز انکوڈ کرتی ہے، جنہیں ‘ووکسلز’ کہا جاتا ہے۔ یہ ووکسلز ڈیٹا کو بائنری کوڈ میں محفوظ کرتے ہیں۔

پڑھنے کا عمل (Reading): محفوظ شدہ معلومات کو پڑھنے کے لیے کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کردہ مائکروسکوپ اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (AI) کا استعمال کیا جاتا ہے جو روشنی کے انعطاف سے ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرتے ہیں۔

تاریخ بدلنے والی ایجاد
ماہرین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی کلاؤڈ اسٹوریج اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ اب اہم سرکاری دستاویزات، سائنسی تحقیقات اور انسانی تاریخ کے ریکارڈز کو ایسے “شیشے کے لائبریریوں” میں محفوظ کیا جا سکے گا جنہیں صدیوں تک کسی دیکھ بھال یا بجلی کی ضرورت نہیں ہوگی۔