LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں

سائنس دانوں نے نئی قسم کی اسٹوریج ایجاد کرلی

Web Desk

19 February 2026

مائیکروسافٹ کے محققین نے ’پروجیکٹ سِلیکا‘ (Project Silica) نامی ایک جدید منصوبے کے تحت شیشے کو ڈیٹا اسٹوریج کے طور پر استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی معلومات کو انکوڈ کرنے کے لیے لیزر سے تیار کردہ خاص شیشہ استعمال کرتی ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیٹا کو 10 ہزار برس سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ سکے گی۔

موجودہ چیلنج اور شیشے کا انتخاب
آج کے ڈیجیٹل دور میں ہم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ڈیٹا کی بہت بڑی مقدار پیدا کر رہے ہیں۔ تاہم:

ہارڈ ڈسک کی محدود زندگی: کمپیوٹر میں استعمال ہونے والی ہارڈ ڈرائیوز یا مقناطیسی ٹیپس چند سالوں یا دہائیوں میں خراب ہو جاتی ہیں، جس سے اہم معلومات کے ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

شیشے کی پائیداری: شیشہ ایک ایسا مٹیریل ہے جو آگ، پانی اور وقت کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اسے ڈیٹا اسٹوریج کے لیے استعمال کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ حقیقت بن چکا ہے۔

ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
اس منصوبے میں ڈیٹا کو شیشے کے اندر محفوظ کرنے کے لیے ایک خاص طریقہ کار اپنایا گیا ہے:

لیزر انکوڈنگ: ایک انتہائی تیز رفتار (Femtosecond) لیزر کے ذریعے شیشے کے اندر خوردبینی نشانات بنائے جاتے ہیں۔

ووکسلز (Voxels): یہ لیزر شیشے پر تھری ڈائمنشنل پکسلز انکوڈ کرتی ہے، جنہیں ‘ووکسلز’ کہا جاتا ہے۔ یہ ووکسلز ڈیٹا کو بائنری کوڈ میں محفوظ کرتے ہیں۔

پڑھنے کا عمل (Reading): محفوظ شدہ معلومات کو پڑھنے کے لیے کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کردہ مائکروسکوپ اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (AI) کا استعمال کیا جاتا ہے جو روشنی کے انعطاف سے ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرتے ہیں۔

تاریخ بدلنے والی ایجاد
ماہرین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی کلاؤڈ اسٹوریج اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ اب اہم سرکاری دستاویزات، سائنسی تحقیقات اور انسانی تاریخ کے ریکارڈز کو ایسے “شیشے کے لائبریریوں” میں محفوظ کیا جا سکے گا جنہیں صدیوں تک کسی دیکھ بھال یا بجلی کی ضرورت نہیں ہوگی۔