LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی کے مثبت اثرات ہونگے: رافیل گروسی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 3 روز میں 27 افراد جاں بحق، 69 زخمی صدرٹرمپ کی کینیڈین کمپنی بمبار ڈیئر کو طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خارگ جزیرے کو 550 مرتبہ نشانہ بنانے کا اعتراف

مائیکرو پلاسٹکس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے ممکنہ تعلق کا انکشاف

Web Desk

7 September 2026

ڈبلن/بارسلونا: ایک نئی بین الاقوامی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا افراد کے پھیپھڑوں میں مائیکرو پلاسٹکس کے باریک ذرات پائے جانے اور ان کی مقدار بالعموم زیادہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج ڈبلن اسکول آف میڈیسن (آئرلینڈ) اور یونیورسٹی آف تھیسالی (یونان) سے وابستہ ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر ایلیاس ڈیمیاس کی قیادت میں کی گئی یہ تحقیق بارسلونا میں منعقدہ ’یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی‘ (ERS) کانگریس میں پیش کی گئی۔ محققین کے مطابق نتائج اس امر کے واضح شواہد فراہم کرتے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹکس سانس کے ذریعے انسانی جسم اور پھیپھڑوں کی گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ مائیکرو پلاسٹکس براہِ راست کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

ڈاکٹر ایلیاس ڈیمیاس کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس عالمی ماحولیاتی آلودگی کا حصہ بن چکے ہیں لیکن انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد ان کے طویل مدتی اثرات اور بیماریوں سے ممکنہ تعلق کے بارے میں ابھی تک انتہائی محدود معلومات دستیاب ہیں۔ طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ان ذرات کے جسم میں داخلے کے پیشِ نظر مزید اور وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پھیپھڑوں میں ان کی معمول کی سطح کیا ہے اور ان سے صحت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔