LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام امریکا کا برازیل پر بعض درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان روس کا یوکرین میں تعینات کسی بھی بین الاقوامی فوج کو نشانہ بنانے کا اعلان

ڈراموں کے سکرپٹس اے آئی سے تیار کئے جا رہے ہیں: مہر بانو کا انکشاف

Web Desk

17 July 2026

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ، ڈیجیٹل کری ایٹر اور ڈانسر مہر بانو نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت متعدد ٹی وی ڈراموں کے اسکرپٹس مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کیے جا رہے ہیں، جس سے برسوں سے انڈسٹری کے لیے لکھنے والے پیشہ ور مصنفین کی محنت اور صلاحیتوں کی شدید بے توقیری ہو رہی ہے۔ ایک حالیہ گفتگو میں مہر بانو نے بتایا کہ وہ خود بھی ایسے ہی ایک پروجیکٹ کا حصہ رہ چکی ہیں اور اسی مایوس کن رویے کے باعث انہوں نے اب کام کرنا کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، اداکارہ نے ڈرامہ انڈسٹری میں خواتین کو درپیش سنگین مسائل پر بھی کھل کر آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ “می ٹو” (#MeToo) تحریک کے باوجود خواتین کے لیے کام کی جگہ اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکی ہے۔ مہر بانو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود سیٹ پر نوجوان لڑکیوں کے ساتھ انتہائی ناپسندیدہ اور ناقابلِ برداشت رویے دیکھے ہیں، اور وہ برسوں ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنے پر مجبور رہی ہیں جن کا رویہ انتہائی نامناسب تھا۔