LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر

پاکستان سےدرآمدات پرپابندی کےبعدافغانستان میں ادویات کا بحران

Web Desk

14 December 2025

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے ادویات کی تجارت روکنے کے فیصلے کے بعد افغانستان میں شدید ادویات کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

طالبان حکومت کے نائب سربراہ برائے معاشی امور، ملا عبدالغنی برادر نے حال ہی میں پاکستانی ادویات پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے افغان درآمد کنندگان کو ہدایت کی تھی کہ وہ تین ماہ کے اندر پاکستانی کمپنیوں کے واجبات ادا کریں اور آئندہ کے لیے ادویات کے نئے ذرائع تلاش کریں۔

جرمن میڈیا کے مطابق افغانستان کے لیے نئے سپلائرز تلاش کرنا آسان نہیں، کیونکہ طویل عرصے سے ملک کی ادویات کی بڑی ضرورت پاکستان ہی پوری کرتا آ رہا ہے۔ طالبان کے ڈائریکٹر جنرل برائے انتظامی امور نوراللہ نوری نے بتایا کہ افغانستان میں استعمال ہونے والی ادویات کا 70 فیصد سے زائد حصہ پاکستان سے آتا ہے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سرحد تقریباً دو ماہ سے کشیدگی کے باعث بند ہے۔

ادویات کی کمی نے ملک بھر میں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے جبکہ مارکیٹ میں غیر معیاری، ایکسپائریڈ اور جعلی ادویات کی فروخت بھی بڑھ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت اب دیگر ممالک کے ساتھ نئی سپلائی لائنز قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس دوران بھارت نے کابل کے لیے 73 ٹن ادویات، ویکسین اور طبی سامان بھیجنے کی تصدیق کی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ امداد ملک کی بڑی آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے۔