LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے: اسد قیصر پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے: عطا تارڑ ایران کا میزائلوں کی رینج اور رفتار بڑھانے کا فیصلہ، اپ گریڈیشن شروع اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے کس کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دیں گے: عباس عراقچی ماسکو فارمیٹ کا افغانستان سے متعلق آٹھواں مشاورتی اجلاس 5 اکتوبر کو ہو گا نانٹکیٹ کے ساحل کے قریب لاپتا طبی طیارے کا ملبہ مل گیا، 6 افراد تاحال لاپتا اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی پاک بھارت سرحد پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ، شہید پاکستانی شہریوں کی نمازِ جنازہ ادا وزیراعظم کی محسن نقوی سے ملاقات، خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غور وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، اپوزیشن سے مذاکرات پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر اتفاق کرکے آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئی: محسن نقوی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ کا مسودہ جاری کر دیا اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: قالیباف

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

Web Desk

11 September 2026

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی نئی تقرری کے اہم آئینی معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین باضابطہ مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے۔

اسی سلسلے میں قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت محمود خان اچکزئی نے کی۔ اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔

 ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں سے تفصیلی تفہیم کے بعد قائدِ حزبِ اختلاف نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق وزیرِ اعظم کے خط کا جواب بھیج دیا ہے اور باہم مشاورت کے لیے دن اور وقت طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ اجلاس میں 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاجی مارچ کے حوالے سے حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور پی ٹی آئی قیادت کو اس احتجاج کے لیے ملک گیر سطح پر بھرپور تیاریوں کی ہدایت کی گئی۔ ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اے پی سی کی تیاریوں اور حتمی خدوخال کا جائزہ لینے کے لیے 15 ستمبر کو ‘تحریکِ تحفظِ آئین’ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔