شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا تعزیتی جلوس تہران میں رواں دواں، لاکھوں افراد شریک
Web Desk
6 July 2026
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی تہران میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ کے بعد اب دارالحکومت میں جنازے کے باقاعدہ جلوس کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے پیشِ نظر سیکیورٹی کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، اس تاریخی جلوس میں لاکھوں سوگوار شریک ہیں۔ یہ جلوس امام حسین چوک، انقلاب گلی، انقلاب چوک، آزادی چوک اور شاہد لشگری ہائی وے سے ہوتا ہوا مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ شدید گرمی کے پیشِ نظر شرکا کی سہولت کے لیے انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کو تہران کے بڑے مذہبی مرکز ‘امام خمینی مصلیٰ’ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جو نامور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مراحل میں پڑھائی۔ جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ عسکری قیادت سمیت ملک کی پوری سیاسی اور فوجی اشرافیہ شریک ہوئی۔
شہید رہنما کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سخت سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکے۔ ایک اندازے کے مطابق، ان تقریبات میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگ شریک ہیں۔
نمازِ جنازہ ختم ہوئی، منتظمین نے مائیک پر مجمع کو پکارتے ہوئے کہا کہ وہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس پکار پر لاکھوں کے مجمع نے ایک زبان ہو کر “انتقام، انتقام” اور “امریکہ مردہ باد” کے شدید نعرے لگائے، جس سے فضا گونج اٹھی۔ نجف، کربلا اور تدفین ایران میں اس وقت 7 دن کے سرکاری سوگ کا اعلان ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے قیام کے لیے 5 ہزار اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ تہران میں جلوس کے بعد میت کو پہلے قم لے جایا جائے گا۔
عراق میں ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری کے مطابق، آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی 7 جولائی کی شام کو پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں 8 جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے تاکہ لاکھوں لوگ آخری دیدار کر سکیں۔ ان تمام مقامات سے گزارنے کے بعد، 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی، جہاں تقریباً دو کروڑ لوگوں کی شرکت کا امکان ہے۔
متعلقہ عنوانات
چین کا آبدوز سے سٹریٹجک میزائل چلانے کا کامیاب تجربہ
6 July 2026
طالبان رجیم تقسیم کا شکار، طالبان کمانڈر قتل، امن وامان کے دعوے زمین بوس
6 July 2026
منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام
6 July 2026
مودی کے زیرِ اثر دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا پردہ فاش
6 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو
6 July 2026
شام داخل ہونے کی کوشش میں 100 سے زائد اسرائیلی آبادکار گرفتار
6 July 2026
سعودی و بحرینی وزرائے خارجہ کی ملاقات، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو
6 July 2026