LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف

شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا تعزیتی جلوس تہران میں رواں دواں، لاکھوں افراد شریک

Web Desk

6 July 2026

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی تہران میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ کے بعد اب دارالحکومت میں جنازے کے باقاعدہ جلوس کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے پیشِ نظر سیکیورٹی کو انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق، اس تاریخی جلوس میں لاکھوں سوگوار شریک ہیں۔ یہ جلوس امام حسین چوک، انقلاب گلی، انقلاب چوک، آزادی چوک اور شاہد لشگری ہائی وے سے ہوتا ہوا مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ شدید گرمی کے پیشِ نظر شرکا کی سہولت کے لیے انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو تہران کے بڑے مذہبی مرکز ‘امام خمینی مصلیٰ’ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جو نامور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مراحل میں پڑھائی۔ جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ عسکری قیادت سمیت ملک کی پوری سیاسی اور فوجی اشرافیہ شریک ہوئی۔

شہید رہنما کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سخت سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکے۔ ایک اندازے کے مطابق، ان تقریبات میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگ شریک ہیں۔

 نمازِ جنازہ ختم ہوئی، منتظمین نے مائیک پر مجمع کو پکارتے ہوئے کہا کہ وہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس پکار پر لاکھوں کے مجمع نے ایک زبان ہو کر “انتقام، انتقام” اور “امریکہ مردہ باد” کے شدید نعرے لگائے، جس سے فضا گونج اٹھی۔ نجف، کربلا اور تدفین ایران میں اس وقت 7 دن کے سرکاری سوگ کا اعلان ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے قیام کے لیے 5 ہزار اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ تہران میں جلوس کے بعد میت کو پہلے قم لے جایا جائے گا۔

عراق میں ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری کے مطابق، آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی 7 جولائی کی شام کو پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں 8 جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے تاکہ لاکھوں لوگ آخری دیدار کر سکیں۔ ان تمام مقامات سے گزارنے کے بعد، 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی، جہاں تقریباً دو کروڑ لوگوں کی شرکت کا امکان ہے۔