LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس

لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ

Web Desk

6 July 2026

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک نیا اور حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق (شامل ہونے) کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ دعویٰ ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کی شدید مہم اور زمینی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسرائیلی فوج لبنان کے متعدد سرحدی اور اندرونی حصوں پر باقاعدہ قبضہ بھی کیے ہوئے ہے۔

سیاسی و علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین نیتن یاہو کے اس بیان کو قبضے کے جواز اور لبنانی معاشرے میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

 دوسری جانب جنوبی لبنان اور دیگر علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، 2 مارچ سے لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں کے باعث ملک بھر میں کم از کم 4,303 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں اور بے گھر ہونے والے شہریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔